صدرِ آصف علی زرداری نے پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں وہ تنہا نہیں — پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ سیلاب اور طغیانی سے جن خاندانوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچا ہے، ہم ان کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔ خصوصاً ان کسانوں کے لیے ہمدردی کے جذبات کا اظہار کیا جن کی فصلیں اور مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے۔
انہوں نے مسلح افواج، ریسکیو اہلکاروں اور دیگر اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ  آزمائش کی اس گھڑی میں پاک فوج اور امدادی اداروں نے جس جرات، عزم اور انسانی خدمت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ فخر اور لائقِ تحسین ہے۔
صدرِ مملکت نے سندھ حکومت کو آئندہ ممکنہ بڑے سیلابی ریلے کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور یقین دلایا کہ وفاقی سطح پر ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
صدر آصف علی زرداری نے امید ظاہر کی کہ جیسے قوم نے 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوصلے سے مقابلہ کیا، ویسے ہی اس بار بھی اتحاد، یکجہتی اور قربانی کے جذبے سے سرخرو ہوگی۔ ہم ایک بہادر قوم ہیں، مشکلات وقتی ہیں، لیکن ہمارا عزم مستقل ہے۔”

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گھوٹکی اور گردونواح میں بجلی کا بریک ڈاؤن، شہری مشکلات کا شکار
  • میر واعظ عمر فاروق کا متعدد شخصیات کی رحلت پر اظہار تعزیت
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر