صدر زرداری کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں پر اظہار افسوس، متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
صدرِ آصف علی زرداری نے پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں وہ تنہا نہیں — پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ سیلاب اور طغیانی سے جن خاندانوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچا ہے، ہم ان کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔ خصوصاً ان کسانوں کے لیے ہمدردی کے جذبات کا اظہار کیا جن کی فصلیں اور مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے۔
انہوں نے مسلح افواج، ریسکیو اہلکاروں اور دیگر اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں پاک فوج اور امدادی اداروں نے جس جرات، عزم اور انسانی خدمت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ فخر اور لائقِ تحسین ہے۔
صدرِ مملکت نے سندھ حکومت کو آئندہ ممکنہ بڑے سیلابی ریلے کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور یقین دلایا کہ وفاقی سطح پر ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
صدر آصف علی زرداری نے امید ظاہر کی کہ جیسے قوم نے 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوصلے سے مقابلہ کیا، ویسے ہی اس بار بھی اتحاد، یکجہتی اور قربانی کے جذبے سے سرخرو ہوگی۔ ہم ایک بہادر قوم ہیں، مشکلات وقتی ہیں، لیکن ہمارا عزم مستقل ہے۔”
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔