گزشتہ مالی سال میں اسٹیٹ بینک کا خالص منافع کتنا رہا؟ رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2024-25 میں 500 ارب ڈالر کا خالص منافع حاصل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معیشت کی سمت مثبت ہے اور اس میں بینکنگ شعبے کا کردار کلیدی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 25-2024ء کے سالانہ مالی گوشوارے جاری کردیے جن کے مطابق بینک نے 2 ہزار 500 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا۔
ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق مذکورہ گوشوارے آڈیٹرز کی رپورٹ کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں اور انہیں اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956 کی شق 40(3) کے تحت وفاقی حکومت اور پارلیمان کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان: ڈیجیٹل کرنسی کی قانونی حیثیت مؤخر، اسٹیٹ بینک کے شدید تحفظات
رپورٹ کے مطابق قانونی تقاضوں اور اکاؤنٹنگ فریم ورک کے مطابق اختصاص کے بعد 2 ہزار 428 ارب روپے کا فاضل منافع وفاقی حکومت کو منتقل کردیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آڈٹ رپورٹ اسٹیٹ بینک خالص منافع وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ڈٹ رپورٹ اسٹیٹ بینک خالص منافع وفاقی حکومت اسٹیٹ بینک خالص منافع کے مطابق
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔