اسپیکٹرم نیلامی میں تاخیر سے 1.8 ارب ڈالر نقصان کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں اسپیکٹرم نیلامی میں مزید تاخیرکی صورت میں آئندہ دو سالوں میں 1.8 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ موجودہ مختص شدہ اسپیکٹرم تقریباً ختم ہو چکا ہے ملک کے سب سے بڑے ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹر "جاز" نے وزیراعظم شہباز شریف کو اس بارے میں آگاہ کیا ہے۔
جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے اپنے خط میں بتایا کہ نیٹ ورک میں جام ہونے کی وجہ سے صارفین کو معیارکی کمی کا سامنا ہے اور اگر 2025 کی نیلامی میں مزید تاخیر ہوئی تو پاکستان کی معیشت کو 1.
انہوں نے بتایا کہ اگر یہ تاخیر 2030 تک جاری رہی تو نقصان 4.3 ارب ڈالر (یا 1.2 کھرب روپے) تک پہنچ سکتا ہے۔ عامر ابراہیم نے وزیراعظم کو خبردارکیا کہ پاکستان کے "ڈیجیٹل پاکستان" کے وژن کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ اسپیکٹرم نیلامی میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موبائل ڈیٹا کا استعمال پچھلے دو سالوں میں 45 فیصد بڑھ چکا ہیاور اس کے ساتھ ہی اسمارٹ فونزکی تعداد بھی دگنا ہو چکی ہے، تاہم اس کے باوجود اسپیکٹرم کی مقدار 2021 کے بعد سے نہیں بڑھائی گئی۔
آئی ٹی کی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے حال ہی میں بیان دیا کہ 5G سپیکٹرم نیلامی میں تاخیر کی بنیادی وجہ پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نارکے انضمام پر جاری مقدمات اور غیر یقینی صورتحال ہے۔
ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹر نے مزیدکہاکہ اگر فوری طور پر نیا اسپیکٹرم فراہم نہ کیاگیا تو نیٹ ورک پر مزید بوجھ بڑھے گا اور صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا ہو گا، جس سے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تکمیل خطرے میں پڑ جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیلامی میں ارب ڈالر سکتا ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔