Express News:
2026-06-03@07:24:08 GMT

زبانیں، نئے صوبے اور مضبوط قومی وحدت

اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT

پاکستان میں زبانوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔بلوچستان کی مہر گڑھ کی تہذیب، سندھ کی موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی تہذیب، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی گندھارا تہذیب کے بعد اس خطے نے یونانیوں، ویدک،ایرانیوں، مغلوں اور برصغیر کے مقامی تمدن کو دیکھا، جس کے نتیجے میں یہاں زبانوں، ثقافتوں اور سماجی نظام کا ایک ایسا امتزاج پیدا ہوا جو آج تک جاری ہے۔

اس تناظر میں میں اہم چیز زبانیں ہیں اور زبانیں صرف بولنے کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ تہذیب اور ثقافت کا آئینہ بھی ہیں۔ زبان میں قوم کے جذبات، فکر، طرزِ معاشرت اور اجتماعی شعور جھلکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر مہذب قوم نے اپنی زبان اور ثقافت کو تحفظ دینے کو اولین ترجیح دی۔

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے سب سے پہلا بل میں نے اسمبلی میں پیش کیا تھا، جس میں سب زبانوں کو ساتھ لے کر چلی، چاہے وہ سرائیکی ہو، ہزارہ کی ہندکو، پنجابی، سندھی،کشمیری، پشتو یا گلگت و بلتستان کی شینا کا تحفظ یا حقوق ہوں۔ ظاہر ہے دس بارہ صوبوں کا مطالبہ صرف اردو بولنے والوں کی نمائندگی تونہیں تھا۔

ہر ثقافت کا اپنا رنگ، اپنی شناخت اور اپنی تاریخ ہے جس کا احترام ہماری باہم مضبوطی کا سبب ہے۔ میں نے اور میری پارٹی نے مکمل سیاسی و سماجی فہم و فراست اور مشاورت کے ساتھ ہوم ورک کیا۔ میں اپنے گزشتہ کالموں میں بھی اس کی تفصیل بیان کر چکی ہوں، مگر بحیثیت مجموعی ہماری بدقسمتی رہی کہ ہماری قومی شناخت کو ہمیشہ تنگ نظری کا سامنا رہا اور ایشوز میںالجھا دیا گیا۔

اردو کو قومی زبان قرار دینا ایک تاریخی فیصلہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ملک کی دوسری اہم زبانوں کو ثانوی حیثیت دینا لسانی سیاست کے زخموں کو گہرا کرتا رہا، حالانکہ میں اور میری پارٹی اس کے حق میں کبھی نہیں رہے۔

2019میں نئے صوبوں کے لیے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے میرے بل میں تمام زبانوں کا احترام شامل تھا۔یہی وجہ تھی کہ 50فیصد سے زائد اراکین اسمبلی کی اس بِل کو حمایت حاصل رہی۔ بات چل نکلی ہے تو مشرقی پاکستان کو ہی لے لیں، 1971ء میںاس کی علیحدگی کی ایک بڑی وجہ بنگالی زبان کو وہ مقام نہ دینا بھی تھا جس کی وہ مستحق تھی۔آج کے پاکستان کوبھی اس نوعیت کے کئی سوالات کا سامنا ہے۔

جنوبی پنجاب صوبہ تحریک کا مطالبہ سرائیکی زبان اور ثقافت کی شناخت کے گرد گھومتا ہے۔ وہاں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی زبان کو نصاب، میڈیا اور ریاستی سرپرستی میں وہ جگہ نہیں مل رہی جو ملنی چاہیے۔ اسی طرح سندھ میں شہری اور دیہی تقسیم کے باعث ’’جنوبی سندھ صوبہ‘‘ کی بحث سامنے آ رہی ہے، جس کے پیچھے اردو بولنے والی آبادی کے خدشات اور اپنے ثقافتی تحفظ کی خواہش کارفرما ہے۔

بلوچستان میں بھی براہوی، پشتو اور بلوچی زبانوں کو ان کا اصل مقام دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان اور چترال میں بھی مقامی زبانوں کے تحفظ کی تحریکیں سامنے آ رہی ہیں۔اسی طرح کبھی ہزارہ صوبہ، کبھی سرائیکی صوبہ کا نعرہ، کبھی سندھ دھرتی کے نام پر جلسے تو کبھی پشتون شناخت کی بنیاد پر ریلیاں۔

یہ صورتِ حال ایک اور سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ کیا نئی صوبائی تقسیم سے ملک کمزور ہوگا یا مضبوط۔ ہمارے ہاں جب بھی نئے صوبوں کی بات نکلتی ہے تو ایک سوچ یہ ہے کہ صوبے بڑھانے سے وفاق بکھر جائے گا، لیکن دوسری رائے زیادہ مضبوط ہے کہ نئے صوبوں کی تخلیق سے انتظامی سہولت بھی بڑھے گی اور زبانوں اور ثقافتوں کو بھی تحفظ ملے گا جس سے آپ بھی اتفاق کریں گے۔

میں سمجھتی ہوں یہی تنوع پاکستان کی طاقت بن سکتا تھا۔ مگر ایسا نہ کرکے اور محرومیوں کو دباکر ہم نے مزید مسائل پیدا کرنے کے سوا کچھ نہ کیا۔نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، ملک کی باگ ڈور اب انھوں نے سنبھالنی ہیں، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نئی نسل کے لیے ایک چیلنج تو یہ ہے کہ شہروں میں رہنے والے بچے اپنی مادری زبان کو ثانوی حیثیت دینے لگے ہیں، اگر صوبے اور ریاستی ادارے ان زبانوں کو تعلیمی نصاب، میڈیا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے فروغ دیتے تو ان کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ بلکہ عالمی سطح پر یعنی گوگل اور دیگر سوشل میڈیا پر بھی ان کا راج ہوتا۔

میری تو سوچ یہ ہے کہ یہ ملک ایک گلدستے کی مانند ہے جس میں مختلف زبانیں کلیوں کی صورت موجود ہیں اور انھی کلیوں کی خوشبو سے پاکستان کا پھول مہکتا ہے۔ہماری ساری زبانیں اس سرزمین کے اصل رنگ ہیں۔ ان زبانوں نے اپنے دامن میں صدیوں کی تاریخ، داستانیں، لوک گیت، محاورے اور ادب سمو رکھا ہے۔

یہی زبانیں ہیں جو اس ملک کی اصل شناخت اور معاشرتی ڈھانچے کو زندگی بخشتی ہیں، اگر ہم ان زبانوں کو تحفظ دیں گے، نئے صوبوں کو ان کی ثقافتی بنیادوں پر منظم کریں گے اور ہر قومیت کو عزت دیں گے تو پاکستان ایک ہم آہنگ، پُرعزم اور خوشبودار گلدستہ بن کر دنیا میں اپنی منفرد پہچان بناسکے گا۔اصل چیلنج بھی یہی ہے کہ ہم زبانوں اور نئے صوبوں کو تقسیم کے بجائے ترقی، وحدت اور قومی ہم آہنگی کا ذریعہ بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور ثقافت زبانوں کو

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد