اٹلی کے آسمان پر نظر آنے والے ‘روشنی کے ستون’ کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اٹلی کے آسمان پر شعلہ نما سرخ روشنی کے حیرت انگیز مناظر نے مقامی لوگوں اور سائنس دانوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔
یہ دلکش مظاہرہ، جسے ‘اسپرائٹس’ کہا جاتا ہے، اطالوی فوٹوگرافر جیاکومو وینتورین نے مونٹے ٹومبا کی چوٹی سے اپنی کیمرہ آنکھ میں قید کیا۔ ان کی تصاویر میں سرخ روشنی کے یہ پراسرار جھرمٹ سرحد پار آسٹریا کے آسمان پر جھلملاتے دکھائی دیتے ہیں جو تقریباً 300 کلومیٹر دور تھے۔
یہ بھی پڑھیے:شارک نارنجی کیوں ہے؟ سائنسدانوں نے راز کھول دیا
ماہرین کے مطابق اسپرائٹس ایک نایاب فضائی مظہر ہیں جو شدید طوفانی بادلوں کے دوران بنتے ہیں۔ یہ روشنی دراصل بادل کے اوپر نمودار ہوتی ہے، جب زمین پر گرنے والی بجلی کا ایک طاقتور جھٹکا بادل کی بلند ترین سطح سے خلا کی طرف خارج ہوتا ہے۔
یہ خارج ہونے والی شعاعیں سرخ روشنی کے ستون کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جنہیں عموماً ‘سرخ ستون’ کہا جاتا ہے۔ یہ روشنی اکثر گروپ کی شکل میں بھی نمودار ہوتی ہے۔
جیاکومو وینتورین نے بتایا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بادل کے نچلے حصے سے بجلی نکلتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اوپر سے کیا نکلتا ہے؟ اس کا جواب ہے اسپرائٹس۔
یہ غیر معمولی منظر فضا میں رقص کرتی روشنیوں کی ایسی جھلک پیش کرتا ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اسپرائٹ روشنی سائنس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔