پی ٹی آئی بلوچستان کی حکومت پر کڑی تنقید، صوبے میں انٹرنیٹ بحالی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بلوچستان نے صوبے میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کو عوامی حقوق پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے فوری بحالی کا مطالبہ کر دیا۔
پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر داؤد شاہ کاکڑ نے کہا کہ حکومت نے امن و امان کی صورتحال کو جواز بنا کر انٹرنیٹ سروس معطل کر رکھی ہے جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان ہائیکورٹ: ٹرانسپورٹ پر پابندی کا حکم فوری واپس لینے اور محفوظ علاقوں میں انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم
انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی پیداوار حکومت اپنا تحفظ نہیں کر سکتی، عوام کے جان و مال کی حفاظت کیا کرے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا آج عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ورکرز نے ‘معرکہ حق’ کے دوران بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر کے حب الوطنی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔
اس موقع پر جہانگیر رند نے بتایا کہ کوئٹہ میں منعقدہ اجلاس میں تمام اضلاع کے سیکرٹریز اطلاعات نے اپنی سہ ماہی رپورٹس پیش کیں جن پر صوبائی قیادت نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سردار زین العابدین خلجی نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جس کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم پارٹی کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیٹ سروس بلوچستان موبائل سروس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ سروس بلوچستان پی ٹی آئی
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔