عاطف اسلم کی مداح کا اسٹیج پر بےہودہ ڈانس، ویڈیو پر شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم پاکستان اور بیرون ملک اپنے بیک ٹو بیک کنسرٹس کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں ایسے ہی ایک کنسرٹ کی نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
کینیڈا کے شہر وینکوور میں عاطف اسلم کے کنسرٹ کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ان کی ایک مداح اسٹیج پر چڑھ کر گلوکار کے بلکل سامنے بےہودہ انداز میں ڈانس کر رہی ہے۔
خاتون مداح کے ڈانس پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا، "موسیقی نے لوگوں کو دیوانہ، غیر معمولی اور مفلوج بنا دیا ہے۔ ایسے لوگوں کو دیکھنا مزاحیہ ہے۔”
ایک اور نے لکھا، ’’یہ بےہودگی کی انتہا ہے، اور لوگ سوچتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات انہیں جدید اور منفرد بناتے ہیں۔‘‘
A post common by Abbas Aadeez (@abbasaadeez)
ایک مداح نے تبصرہ کیا، "یہ لڑکی اس مچھر کی طرح ہے جو جب میں واش روم میں جاتا ہوں تو کان کے پاس ڈانس کرتا ہے۔” ایک اور مداح نے لکھا، "یہ نامناسب ہے۔”
کچھ لوگوں نے عاطف اسلم کے اپنے والد کے ساتھ تعلقات پر بھی سوال اٹھایا، ایک مداح نے کہا، ’ان کے والد کا ابھی انتقال ہوا ہے اور وہ کنسرٹس میں مصروف ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ ایسا کون سا رشتہ بنایا جو انہیں روک نہیں پایا۔‘
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔