چینی فوج کی تاریخی پریڈ، صف اول میں موجود وزیراعظم شہباز شریف سوشل میڈیا پر چھا گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
چین میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ اور عالمی انسداد فاشزم جنگ میں فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر بیجنگ میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں چین نے اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا۔
اس سلسلے میں چینی دارالحکومت کے تاریخی تیانمن سکوائر پر شاندار فوجی پریڈ منعقد کی گئی جس میں فضائیہ، بحریہ اور بری فوج سے وابستہ مرد وخواتین فوجیوں نے انتہائی چابک دستی سے حصہ لیا اور صدر شی جن پنگ کو ولولہ انگیز انداز سے سلامی پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا میں نئی صف بندی کی ضرورت، چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ کو روکا نہیں جاسکتا، چینی صدر شی جن پنگ
جاپانی جارحیت کیخلاف چینی عوام کی بھرپور مزاحمت کی اس یادگاری تقریب کی خاص بات وزیراعظم شہباز شریف کی چینی صدر سمیت روسی صدر ولادیمرپیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان کے ہمراہ صف اول میں موجودگی تھی، تیانمن اسکوائر میں ملٹری پریڈ سے قبل ان رہنماؤں نے جنگ عظیم دوئم کے چینی افسروں سے مصافحہ کیا۔
Ahead of a military parade in Beijing, leaders Putin, Xi, Kim, and Prime Minister Shahbaz greet Chinese veterans from World War II.
pic.twitter.com/UqAVb1Vac0
— Mohsin Ali (@Mohsin_o2) September 3, 2025
چینی فوج کی تاریخی پریڈ کے موقع پر صف اول میں موجود وزیراعظم شہباز شریف سوشل میڈیا پر چھا گئے، جہاں انہیں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر صارفین نے انہیں خراج تحسین پیش کیا، ایک صارف نے وزیر اعظم کی فوجی پریڈ میں شرکت کی ویڈیوشیئر کرتے ہوئے اسے پوری قوم کے لیے باعث فخر قرار دیا۔
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد شہباز شریف دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر چینی فوجی پریڈ میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔پوری قوم کیلئے عزت اور فخر کا مقام ہے۔@CMShehbaz @ShehbazDigital @ShehbazDipl
pic.twitter.com/TgAZbrWgZa
— Ishaq Khan Sumble (@ishaqkhansumble) September 3, 2025
چینی صدر شی جن پنگ کے استقبال کے موقع پر اُن کی اہلیہ اور خاتونِ اوّل پنگ لی یوان بھی موجود تھیں، گروپ فوٹو میں وزیراعظم شہباز شریف صفِ اوّل میں نمایاں نظر آئے، جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس تقریب میں مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔
صارف منصوراحمد قریشی نے بھی مذکورہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس کے فریم کو نایاب قرار دیا جس میں بیک وقت 4 بڑے نام یعنی ’شی، پیوٹن، کم اور شہباز‘ شامل تھے۔
One rare frame, four powerful names – Xi, Putin, Kim & Shehbaz. pic.twitter.com/FuZjdnqzvw
— Mansoor Ahmed Qureshi (@MansurQr) September 3, 2025
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارف قائمخانی نے عالمی رہنماؤں کی فوجی پریڈ میں شرکت کے لیے تیانمن اسکوائر پہنچنے کی ویڈیو شیئر کی جس میں صف اول میں وزیر اعظم شہباز شریف کو شمالی کوریائی رہنما، چینی اور روسی صدور کے ہمراہ قدم اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
شی جن پنگ، ولادیمیر پوتین، اور
میاں شھباز شریف
جہاں تک وقت جائے گا اسے آگے ہی پائے گا
جبھی تاریخ نے رکھا یے اسکا نام پاکستان pic.twitter.com/YCTZAtUPTk
— Qaimkhani (@QaimKhanisays) September 3, 2025
دلچسپ اتفاق یہ ہوا کہ جب صدر شی نے وزیراعظم شہباز شریف کا خیرمقدم کیا تو اُن کے فوراً بعد شمالی کوریا کے رہنما کا استقبال کیا گیا، عالمی رہنما پریڈ کا معائنہ کرنے کے لیے تیانمن روسٹرم کی طرف بڑھے، تو سیڑھیاں چڑھتے وقت بھی وزیراعظم شہباز شریف اور شمالی کوریا کے رہنما ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
aiks ایکس بھارتی وزیراعظم پلیٹ فارم تیانمن اسکوائر چینی صدر سوشل میڈیا شمالی کوریائی رہنما شہباز شریف شی جن پنگ فوجی پریڈ نریندر مودی وزیر اعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس بھارتی وزیراعظم پلیٹ فارم تیانمن اسکوائر چینی صدر سوشل میڈیا شمالی کوریائی رہنما شہباز شریف فوجی پریڈ وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف سوشل میڈیا صف اول میں کے موقع پر فوجی پریڈ چینی صدر کے لیے
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں