وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر 2027 تک آرمی چیف رہیں گے۔ انہوں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں توسیع کے لیے ان سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے۔

نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ موجودہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی جبکہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر 2027 تک اپنے منصب پر فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کوئی نئی بات نہیں، قانون میں ترمیم ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبوں کا قیام، این ایف سی ایوارڈ فارمولے میں تبدیلی، رانا ثنااللہ کھل کر بول پڑے

انہوں ںے کہاکہ نئے صوبوں کی بات ہم نے صرف میڈیا پر ہی سنی ہے، حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی تجویز یا منصوبہ زیر غور نہیں۔

عمران خان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم اس وقت جس عمل پر لگے ہوئے ہیں وہ کسی صورت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان چاہیں تو جیل میں بیٹھے رہیں، لیکن اگر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس بات چیت کی پیشکش اب بھی موجود ہے۔

رانا ثنااللہ نے واضح کیاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہمیشہ استحکامِ پاکستان کی بات کی ہے۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان ملک کو سول وار کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ ایسا چاہتے ہیں تو کیا یہ ہونے دیا جائے گا؟

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے مشاورت کے ساتھ تمام فیصلے کیے جاتے ہیں۔ وہ کسی سے ناراض نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن پوسٹ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ کو پاک امریکا تعلقات میں نئی جہت قرار دیدیا

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ توسیع کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ 5 یا 10 برس کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آرمی چیف رانا ثنااللہ سید عاصم منیر فیلڈ مارشل مدت ملازمت میں توسیع مشیر وزیراعظم نواز شریف وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف رانا ثنااللہ فیلڈ مارشل مدت ملازمت میں توسیع نواز شریف وی نیوز رانا ثنااللہ نے کہا فیلڈ مارشل انہوں نے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت