ایپل کے ورچوئیل اسسٹنٹ کو گوگل کا جیمینی اے آئی چلائے گا، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
2026 میں ایپل کے ورچوئیل اسسٹنٹ (سری) کو گوگل کا جیمینی اے آئی چلائے گا۔
عالمی ٹیکنالوجی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ایپل اپنی ورچوئل اسسٹنٹ سری (Siri) میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے جارہا ہے اور 2026 تک اس میں گوگل کی جدید ترین جیمینی اے آئی ٹیکنالوجی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون، آئی پیڈ اور میک کو خطرہ؟ ایپل کی وارننگ
ایپل کو کافی عرصے سے اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے اور اپنے صارفین کے لیے زیادہ جدید فیچرز پیش کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔ سری کے نئے ورژن کے حوالے سے بھی توقع تھی کہ جلد متعارف ہوگا، لیکن اب اس کی لانچنگ 2026 تک مؤخر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایپل اپنے اندرونی اے آئی ماڈلز پر انحصار کرنے کے بجائے گوگل کی مدد لینے پر غور کر رہا ہے تاکہ سری کو موجودہ حریفوں جیسے اوپن اے آئی، گوگل اور پرپلیکسیٹی کے اے آئی سسٹمز کے برابر لایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل سستا ترین میک بک لانچ کرنے کے لیے تیار، ممکنہ قیمت کیا ہوگی؟
ذرائع کے مطابق ایپل اور گوگل کے درمیان باضابطہ معاہدہ ہو چکا ہے جس کے تحت سری میں جیمینائی اے آئی ماڈل کو آزمائشی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو یہ ٹیکنالوجی آئی فون کے دیگر سافٹ ویئرز، جیسے سفاری براؤزر اور ہوم اسکرین پر موجود فیچرز میں بھی شامل کی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
siri we news ایپل اے آئی جیمینی سری گوگل ورچوئیل اسسٹنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایپل اے ا ئی گوگل ورچوئیل اسسٹنٹ اے آئی
پڑھیں:
اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی نے اسرائیل کے اعتراضات کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی مقام سبسطیہ اور جنوبی لبنان کے جبل عامل خطے کے پانچ تاریخی قلعوں کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں مقامات کو ساتھ ہی خطرے سے دوچار عالمی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سیاسی نوعیت کا ہے، اور خاص طور پر لبنان کے بیوفورٹ قلعہ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب فلسطینی اور لبنانی حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
یونیسکو کی کمیٹی نے لبنان کے قدیم شہر صور کو بھی تنازع اور ممکنہ نقصان کے خدشات کے باعث خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔