پیپلز آئی ٹی پروگرام اور گوگل ڈیجیٹل صحافت اسکالرشپ کے ایم او یوز پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں دو اہم مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب میں ’’پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام (پی آئی ٹی پی-ٹو)‘‘ اور ’’گوگل ڈیجیٹل صحافت اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔
اس موقع پر این ای ڈی یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی اور آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلرز، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، سیکریٹری آئی ٹی نور محمد سموں، سی ای او ٹیک ویلی عمر فاروق، گوگل ایشیا کے سربراہ پال ہچنگس اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام (پی آئی ٹی پی-ٹو) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جو کہ صوبے میں نوجوانوں کو عالمی معیار کی آئی ٹی تربیت فراہم کرنے کا ایک انقلابی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی ٹی پی-ون کی شاندار کامیابی قابل فخر ہے جس کے تحت 13,565 طلبہ کو تربیت دی گئی اور 4,300 سے زائد نوجوان آج معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس پروگرام کی خاص بات خواتین کی بھرپور شمولیت اور دیہی علاقوں کی نمائندگی تھی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پی آئی ٹی پی-ٹو کے لیے 1.
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پروگرام صرف تربیت کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک انقلابی اقدام ہے جو سندھ کے ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد رکھے گا۔
اس موقع پر گوگل نیوز انیشی ایٹو کے تحت ڈیجیٹل صحافت پروگرام کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ حکومت، گوگل اور ٹیک ویلی کا مشترکہ وژن ہے جس کا مقصد جھوٹی خبروں کے خلاف موثر تربیت اور جدید صحافتی مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔ پہلے مرحلے میں 500 اساتذہ اور طلبہ کو ڈیجیٹل رپورٹنگ، فیکٹ چیکنگ اور مصنوعی ذہانت پر تربیت دی گئی جبکہ دوسرے مرحلے میں 1000 اسکالرشپس دی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اسکالر شپس صحافیوں، سرکاری ترجمانوں اور میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ میں تقسیم کی جائیں گی تاکہ سچائی، شفافیت اور جمہوریت کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوگل ڈیجیٹل صحافت پروگرام فیک نیوز کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا اور صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ سفر میں مزید نکھار دے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ تمام شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں سے سندھ کو روشن، ترقی یافتہ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ صوبہ بنایا جائے گا۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پی آئی ٹی پی طلبہ کو کے تحت
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔