Express News:
2026-06-03@06:30:49 GMT

ہر شادی شدہ جوڑا بچوں کے قابل نہیں ہوتا، ثانیہ سعید

اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT

سینئر اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ بچے پیدا کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور ہر شادی شدی جوڑا بچوں کے لائق نہیں ہوتا۔ 

یہ بات اداکارہ ثانیہ سعید نے ایک حالیہ مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کی اور ان والدین کی ذہنی اور جذباتی صحت کے بارے میں بات کی جو بچے پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ثانیہ سعید نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر جوڑے بچوں کی پرورش اور پرورش کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے، ہر جوڑا اولاد کا مستحق نہیں ہوتا، ہر جوڑا اپنی کمزور جذباتی اور ذہنی صحت کی وجہ سے زندگی بھر کے لیے بچوں کا مستحق نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا شادی شدہ جوڑا بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا والدین حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا وہ جذباتی طور پر اتنی بھارتی ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں جو ہم چاہتے ہیں؟

ثانیہ سعید نے مزید کہا کہ ہم شادی شدہ جوڑوں کو اکثر بچے کیلئے مجبور کرتے ہیں۔ ایک چھوٹا بچہ کسی کو بھی پاگل کر سکتا ہے اور پاکستان میں نوجوان والدین بہت ساری ذہنی بیماریوں سے گزر رہے ہیں، بہت سی مائیں زچگی کے بعد ڈپریشن سے گزر رہی ہیں، بچے کیلئے دباؤ ڈالنے والے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ثانیہ سعید نہیں ہوتا کے لیے

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟