Express News:
2026-07-24@11:00:40 GMT

اے قائد ہم شرمندہ ہیں

اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT

ہمارے دور کی پرائمری جماعت کی اردو کی کتاب میں قائد اعظم پر ایک سبق تھا۔ جس کا آغاز اس طرح ہوتا تھا کہ آدھی رات کا وقت ہے کراچی شہر کے لوگ میٹھی نیند سو رہے ہیں لیکن وہاں ایک گھر کے ایک کمرے کی ایک کھڑکی سے روشنی نظر آرہی ہے جہاں ایک بچہ کتاب پڑھنے میں مگن ہے کیوں کہ اس نے پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننا ہے۔ اس کا نام محمد علی جناح ہے۔

جس نے واقعی پڑھ لکھ کر اپنے بڑا آدمی بننے کے خواب کو سچ کر دکھایا اور ایسا عظیم رہنما بنا کہ بیک وقت انگریزوں، ہندوؤں اور سکھوں کے علاوہ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں سے چومکھی لڑائی لڑ کر برصغیر کے مسلمانوں کےلیے ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

اور یہ وہی وطن ہے جس میں آج ہم آزادی کی فضا میں سانس تو لے رہے ہیں لیکن افسوس کی ہم اپنے اندر نہ تو قائداعظم کی کوئی خاصیت پیدا کرسکے اور نہ ہی اس نظریے سے ہمارا حقیقی معنوں میں کوئی لینا دینا ہے کہ جس کی بنیاد پر قائداعظم کی قیادت اور رہنمائی میں ہمارے آبا و اجداد نے اپنے تن، من اور دھن کی قربانی دینے کے بعد یہ جنت نظیر خطہ حاصل کرکے ہماری جھولی میں ڈالا تھا۔

آج 11 ستمبر 2025 کو ہم اسی عظیم لیڈر کی 77 ویں برسی منا رہے ہیں جسے ہم اور یہ پوری دنیا قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔

یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ قائداعظم نے کبھی بھی اپنے مفاد کےلیے جھوٹ نہیں بولا نہ ہی وہ کسی کے آگے جھکے اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتا کیا۔ صاف ستھرا لباس زیب تن کیا جو اس وقت ہر امیر کی دسترس میں بھی نہیں تھا۔ اپنا دامن الزامات سے صاف ستھرا رکھا اور کسی میں جرأت نہیں تھی کہ ان پر خوامخواہ جھوٹا الزام لگاتا اور کسی نے ایسی حرکت کی بھی تو انہیں منہ کی کھانا پڑی۔

برصغیر کے مسلمانوں کےلیے وطن کے حصول کو ناکامی سے بچانے کےلیے تحریک پاکستان کے آخری دنوں میں اپنی شدید بیماری کو بھی لوگوں سے چھپائے رکھا اور اپنے ڈاکٹر تک کو کسی کو بتانے سے منع کردیا تھا کہ ایسا نہ ہو ان کی مہلک اور جان لیوا بیماری کی خبر ان کے سیاسی دشمنوں اور برصغیر کی تقسیم کے مخالفین کو ہوجائے اور وہ اس تقسیم کے منصوبے کو اس قدر تاخیر کا شکار بنا دیں کہ خدانخواستہ قائداعظم کے اس دنیا سے گزر جانے کے بعد پاکستان کا حصول برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایسا خواب بن کر رہ جائے کہ جس کی تعبیر شاید کبھی ممکن نہ ہوسکے۔

الغرض انہوں نے اپنی جان بھی اس ملک پر قربان دی اور ان کے بعد ان کے دشمن واقعی اس بات پر کف افسوس ملتے رہے کہ اگر انہیں قائداعظم کی بیماری کا علم ہوجاتا تو کبھی پاکستان نہ بننے دیتے۔

ہمارا ملک آزادی کے بعد ابھی صرف اپنی پہلی سالگرہ ہی گزار پایا تھا اور اپنے پاؤں کھڑا ہونا تو درکنار ابھی تک ان مسائل میں ہی گھرا ہوا تھا کہ جو برصغیر کی تقسیم کے بعد دشمنوں نے ملی بھگت سے ہماری جھولی میں ڈال دیے تھے اور ہم ابھی مہاجرین کی آباد کاریوں سے بھی فارغ نہ ہوئے تھے کہ ہمارے شفیق لیڈر ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور ان کی جدائی سے ہر آنکھ دل سے اشک بار تھی اور قوم ہر غم بھول کر ان کے غم میں ڈوب گئی۔

اس عظیم لیڈر کے بعد ہمیں بھانت بھانت کے لیڈر ملے جن کے تمام اقدامات اپنے مفادات کے تابع تھے اور مختلف قسم کی سیاسی، لسانی اور صوبائی اختلافات کی بدولت ہمیں اپنا پہلا آئین بنانے میں بھی پورے 9 سال لگ گے اور اس سمیت بعد میں بننے والے آئین کے ساتھ بھی ہم نے کیا سلوک کیا یہ تاریخ کا حصہ ہے۔

آج پورے ملک میں قائداعظم کی 77 ویں برسی منائی جارہی ہے اور یہ برسی اس شخص کی ہے جس نے اپنی ساری زندگی پاکستان پر قربان کردی ا ور جب تک گورنر جنرل رہے عوام کا ایک دھیلا بھی اپنی ذات پر خرچ نہ کیا اور سرکاری کام ختم ہونے پر لائٹیں بھی آف کردیں اور ذاتی کھانے کےلیے اگر خانساماں نے خاص کھانا بنایا تو اس کے پیسے بھی اپنی جیب سے ادا کیے۔ ہمیشہ وقت کی پابندی اور اصولوں کی پاسداری کی اور سب سے بڑی بات کہ برطانیہ کی جس یونیورسٹی میں پڑھا وہاں داخلہ لینے کی وجہ وہاں کے نوٹس بورڈ پر دنیا کے عظیم لیڈروں کے ناموں میں سب سے پہلے اور اوپر ہمارے پیارے نبی کا نام مبارک تھا۔

آئیے قائداعظم کی برسی اس عہد کے ساتھ منائیں کہ اپنے اندر کوئی تو ایسی خاصیت پیدا کریں کہ ہمارے دعووں اور بڑھکوں سے نہیں بلکہ کردار اور عملی زندگی سے پتہ چلے کہ قائداعظم ہمارے لیڈر ہیں اور ہم ان کے پیروکار۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قائداعظم کی کے بعد

پڑھیں:

ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے

بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔

سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے

اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے

سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟

انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک