شہر قائد؛ ایک گھنٹے میں 3 حادثات، ماں بیٹے سمیت 4 افراد جاں بحق، 2 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
کراچی:
شہرقائد میں پیرکی صبح ایک گھنٹے کے دوران 3 مختلف ٹریفک حادثات میں ماں بیٹے سمیت 4 افراد جاں بحق اور2 زخمی ہوگئے۔ 2 جان لیوا ٹریفک حادثات ہیوی ٹریفک کے باعث پیش آئے۔
قائد آباد تھانے کےعلاقےلانڈھی اسپتال چورنگی کے قریب تیزرفتارواٹر ٹینکرنے موٹرسائیکل سواروں کوکچل دیا، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل پر سوارخاتون سمیت 2 افراد جاں بحق اورایک نوجوان زخمی ہوگیا، جنہیں ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال میں متوفیہ خاتون کی شناخت 45 سالہ رئیسہ زوجہ احمد اور جاں بحق نوجوان کی شناخت 20 سالہ ارمان ولد احمد جب کہ زخمی نوجوان کی شناخت 24 سالہ حسنین ولد احمد کے نام سے کی گئی۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والی خاتون اورنوجوان ماں بیٹا ہیں جب کہ زخمی ہونے والا بھی خاتون کا بیٹا ہے۔ حادثے کے بعد پولیس نے واٹرٹینکرکوتحویل میں لینے کےبعد تھانے منتقل کردیا گیا۔
ایس ایچ اوعنایت اللہ مروت کے مطابق حادثے میں جاں بحق و زخمی ماں بیٹے لانڈھی کے رہائشی تھے، تینوں ایک مل میں کام کرتے تھے۔ حادثے میں جاں بحق ماں بیٹے ایک ہی موٹر سائیکل پرسوارتھے۔ پہلے ان کی موٹر سائیکل کسی دوسری موٹر سائیکل سے ٹکرائی اور اسی دوران عقب سے آنے والا ٹینکر ان پرچڑھ گیا۔ حادثے کے بعد واٹر ٹینکر کا ڈرائیور موقع پر سے فرارہوگیا۔
دوسری جانب موچکو تھانے کےعلاقے بلدیہ ناردرن بائی پاس حاجی خواستی گوٹھ کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک نوجوان جاں بحق اوردوسرا زخمی ہو گیا، جنہیں فوری طورپرایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا۔ جاں بحق نوجوان کی شناخت 28 سالہ شہباز اورزخمی کی شناخت 25 سالہ داؤد ولدیت اسلم کے نام سے کی گئی۔ ترجمان ایدھی کے مطابق حادثہ تیز رفتار ٹرالر کی ٹکر کے باعث پیش آیا ۔
ساحل تھانے کے علاقے ڈیفنس فیز 08 کریک وسٹا اپارٹمنٹ کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا، جس کی لاش قانونی کارروائی کے لیے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔ جہاں جاں بحق شخص کی شناخت 35 سالہ یار جان ولد نورمحمد کے نام سے کی گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق متوفی شخص تیز رفتارنامعلوم گاڑی کی ٹکر کے باعث پیش آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماں بیٹے کی شناخت کی گئی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔