کیا بڑی عمر کے لوگوں کو محبت نہیں ہوسکتی؛ اسماء عباس
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
معروف اداکارہ اسماء عباس نے حال ہی میں ایک شو میں گفتگو کرتے ہوئے ڈراما انڈسٹری میں سینئر فنکاروں کے کردار پر کھل کر بات کی۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو میں اداکارہ اسما عباس نے بتایا کہ انھوں نے اس سال کوئی نیا ڈراما سائن نہیں کیا کیونکہ گزشتہ سال انہوں نے چند کمزور اور غیر معیاری پروجیکٹس کر لیے تھے اور اب وہ صرف اچھے اور معیاری اسکرپٹس کا ہی انتخاب کریں گی۔
اسماء عباس کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈراموں میں والدین کو صرف "فِلرز" کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جیسے ان کی اپنی کوئی زندگی ہی نہیں۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہماری عمر کے لوگوں کی زندگی نہیں ہوتی؟ کیا ان کے پاس محبت کی کہانیاں نہیں ہوتیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ بڑے لوگوں کے پاس زندگی کا وسیع تجربہ ہوتا ہے اور ان کے جذبات بھی اتنے ہی گہرے اور اہم ہیں۔
مثال دیتے ہوئے انہوں نے بشریٰ انصاری اور ثمینہ احمد کا ذکر کیا جنہوں نے اس عمر میں بھی اپنی محبت کو پایا اور خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کر رہی ہیں۔
اداکارہ کے مطابق، ڈراموں میں سینئر فنکاروں کے کرداروں کو مزید بامقصد اور دلچسپ ہونا چاہیے، نہ کہ صرف کونے میں بیٹھے روتے ہوئے دکھایا جائے۔
سوشل میڈیا صارفین نے نے لکھا کہ خوشی ہوئی یہ بات کھل کر سامنے آئی۔ ایک اور نے لکھا کہ میری خالہ نے بھی زندگی کے آخری حصے میں محبت پائی، بزرگوں کی بھی اپنی زندگی ہوتی ہے۔
جبکہ کچھ لوگوں نے ڈراما "کابلی پلاؤ" کی مثال دی جس میں اس پہلو کو بخوبی اجاگر کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
اسلام آباد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی روابط ہی مسائل کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعاون کے فروغ، باہمی اعتماد میں اضافے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں روابط کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کے تحت طے پانے والے نکات پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کی قیادت خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر متفق ہے، جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔