مریخ پر زندگی کے آثار کے نئے اور مضبوط سراغ مل گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
مریخ کی سطح پر دریافت ہونے والی غیرمعمولی چٹانیں اب تک کے سب سے اہم شواہد فراہم کر رہی ہیں کہ ماضی میں سرخ سیارے پر زندگی موجود ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا چاند و مریخ پر رابطوں کا نیا جال بچھانے کا منصوبہ، امریکی کمپنیوں سے تجاویز طلب
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے پرسیورینس روور نے مریخ کے ایک خشک دریا کے کنارے کیچڑ نما چٹانیں دریافت کی ہیں جن پر تیندوے کی کھال اور خشخاش کے دانوں جیسے نشانات پائے گئے ہیں۔
یہ نشانات ایسے معدنیات پر مشتمل ہیں جن کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ قدیم مائیکروبی زندگی سے وابستہ کیمیائی عمل کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔
زندگی یا فطری عمل؟اگرچہ ان معدنیات کی تشکیل فطری ارضیاتی عوامل کے ذریعے بھی ممکن ہے لیکن یہ دریافت ناسا کے مطابق ممکنہ حیاتیاتی نشانیاں کہلانے کے معیار پر پوری اترتی ہیں یعنی وہ شواہد جو ممکنہ طور پر کسی حیاتیاتی ذریعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور جن کی مزید چھان بین ضروری ہے۔
امپیریل کالج لندن کے سیاروی سائنسدان اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر سنجیو گپتا کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا کیوں کہ اگر زمین پر ایسی چٹانیں ملتیں تو ہم کہتے کہ یہ مائیکروبی عمل کا نتیجہ ہیں۔
مزید پڑھیے: ناسا نے مریخ پر پانی کے غائب ہونے کا نیا سبب دریافت کر لیا
سنجیو گپتا نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمیں زندگی مل گئی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ ہمارے پاس اب ایک نیا اور مضبوط سراغ موجود ہے۔
ناسا کی سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر نکولا فاکس نے کہا کہ یہ کچھ ایسا ہے جیسے کوئی فوسل بچ گیا ہو شاید کسی مخلوق کا کھایا ہوا کھانا یا پھر اس کا فضلہ ہو سکتا ہے ہم اسی کا نشان دیکھ رہے ہوں۔
روکس کو زمین پر لا کر جانچنے کی ضرورتچٹانوں میں موجود معدنیات واقعی کسی مائیکروب کی وجہ سے بنی ہیں یا نہیں اس کا حتمی فیصلہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب انہیں زمین پر لا کر تجربہ کیا جائے۔
پرسیورینس روور جو سنہ 2021 میں مریخ پر اتری تھی گزشتہ 4 برسوں سے Jezero Crater نامی علاقے کی کھوج میں مصروف ہے جو کبھی ایک قدیم جھیل اور دریا کا دہانہ تھا۔ یہی پرسیورینس وہ چٹانیں لایا ہے جنہیں برائٹ اینجل فاؤنڈیشن کہا جا رہا ہے۔ یہ چٹانیں تقریباً 3.
پروفیسر جوئل ہیوروز، نیویارک کی اسٹونی بروک یونیورسٹی کے محقق اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف نے بتایا کہ ہم نے فوری طور پر اندازہ لگا لیا تھا کہ ان چٹانوں میں دلچسپ کیمیائی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کا چاند پر دوبارہ انسان بھیجنے اور بیس کیمپ قائم کرنے کا اعلان
روور نے ان چٹانوں کا تجزیہ کرنے کے لیے مختلف سائنسی آلات استعمال کیے اور یہ ڈیٹا زمین پر سائنسدانوں کو بھیجا گیا۔ ہیوروز کے مطابق ہمیں ایسے کیمیائی ردعمل کے شواہد ملے ہیں جو اس وقت ہوئے جب جھیل کے فرش پر موجود کیچڑ نے نامیاتی مادّے کے ساتھ تعامل کیا اور ان دونوں نے مل کر نئی معدنیات تشکیل دیں۔
زمین پر عموماً ایسے ردعمل مائیکروبی زندگی کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔
زندگی کی سب سے مضبوط ممکنہ علامت؟ہیوروز کا کہنا ہے کہ یہ ان خصوصیات میں سے ایک ممکنہ وضاحت ہو سکتی ہے کہ مائیکروبی زندگی نے یہ اثرات چھوڑے ہوں اور یہ اب تک کی سب سے قابل اعتبار ممکنہ بائیو سگنیچرز لگتے ہیں جو ہمیں مریخ پر ملے ہیں۔
تحقیق میں غیر حیاتیاتی طریقہ کار (جیسے بلند درجہ حرارت پر ہونے والے قدرتی کیمیائی عمل) کو بھی مدنظر رکھا گیا لیکن ماہرین کے مطابق چٹانوں میں حرارت کے آثار نظر نہیں آتے۔ لہٰذا غیر حیاتیاتی نظریے کو مکمل طور پر مسترد تو نہیں کیا جا سکتا مگر اس پر کچھ سوالات ضرور ہیں۔
مریخی نمونوں کی واپسی کا مستقبل غیر یقینییہ بھی پڑھیے: پراسرار سیارچہ خلائی مخلوق کا بھیجا گیا کوئی مشن ہوسکتا ہے، ہارورڈ کے سائنسدان کا دعویٰ
ناسا کی خلائی گاڑی پرسیورینس روور ان قیمتی چٹانوں کے نمونے جمع کر چکی ہے اور محفوظ کنستروں میں رکھ چکا ہے تاکہ وہ آئندہ کسی مشن کے ذریعے زمین پر لائے جا سکیں۔
ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے ’مارس سیمپل ریٹرن مشن‘ تجویز کیا گیا تھا لیکن سنہ 2026 کے بجٹ میں ممکنہ کٹوتیوں کی وجہ سے اس منصوبے کی مستقبل غیر یقینی ہو چکی ہے۔
ادھر چین بھی مریخ سے نمونے واپس لانے کا مشن تیار کر رہا ہے جو ممکنہ طور پر سنہ 2028 میں لانچ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
پروفیسر سنجیو گپتا نے کہا کہ ہمیں یہ نمونے زمین پر لا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر سائنسدان اس وقت تک پریقین نہیں ہوں گے جب تک یہ چٹانیں ان کے ہاتھ میں نہ ہوں اور یہی ہمارا سب سے اہم ہدف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تیندوے کی کھال کے نشانات مریخ مریخ پر زندگی کے آثار مریخ پر زندگی کے ٹھوس آثار مریخ پر لیوپرڈ اسپاٹس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریخ پر زندگی کے ا ثار مریخ پر زندگی کے ٹھوس ا ثار پرسیورینس روور زندگی کے پر زندگی کے مطابق سکتا ہے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور