ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کب کھیلا جائے گا؟ ممکنہ تاریخیں سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کب کھیلا جائے گا؟ ممکنہ تاریخیں سامنے آگئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز
لاہور:آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 ممکنہ طور پر آئندہ برس 7 فروری سے 8 مارچ تک کھیلا جائے گا، جس میں بھارت اور سری لنکا میزبان ہوں گے۔
کرکٹ کی مشہور ویب سائٹ ای ایس پی این کرک انفو میگا ایونٹ کی تاریخیں سامنے لے آیا، جس کے مطابق آئندہ برس ٹی 20 ورلڈکپ 7 فروری سے 8 مارچ تک ہونے کا امکان ہے جب کہ 2026 میں ہونے والا ایونٹ بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے۔
میگا ایونٹ میں 20 ٹیمیں حصہ لیں گی، میچز بھارت میں میچز کم از کم 5 اور سری لنکا میں 2 وینیوز پر ہوں گے۔
کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق فائنل احمد آباد یا کولمبو میں کھیلا جائے گا تاہم اس کا انحصار پاکستان کے فائنل میں پہنچنے پر ہوگا تاہم پاکستان ٹیم اپنے میچز سری لنکا میں کھیلے گی جب کہ آئی سی سی شیڈول کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے 15 ٹیموں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں بھارت، سری لنکا، افغانستان، آسٹریلیا، بنگلہ دیش ، ساؤتھ افریقہ ،پاکستان،انگلینڈ ،یو ایس اے، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، آئر لینڈ، کینیڈا ، نیدرلینڈز اور اٹلی کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
دو ٹیمیں افریقا اور 3 ایشیا اینڈ ایسٹ ایشیا پیسفک کوالیفائر سے شرکت کریں گی۔ ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 فارمیٹ کے مطابق کھیلا جائے گا۔
میگا ایونٹ میں 20 ٹیموں کو 4 گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، 4 گروپس کی ٹاپ 2 ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی ۔ سپر ایٹ مرحلے کے 2 گروپس کی ٹاپ 2،2 ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمنیشا کوئرالہ نے نیپال میں مظاہرین کیخلاف جاری پرتشدد کریک ڈاؤن پر آواز بلند کردی ایشیا کپ، فاتح ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی، تفصیلات سامنے آگئیں تین ملکی سیریز، فائنل میں پاکستان کا افغانستان کو جیت کیلئے 142رنز کا ہدف یو اے ای اگلی بڑی کرکٹ طاقت بنے گا،گلف جائنٹس کے کوچ کا انکشاف کیوی لیجنڈ راس ٹیلر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی شارجہ واریئرز نے ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 ڈویلپمنٹ ٹورنامنٹ کا تاج اپنے نام کر لیا پاکستانی کرکٹر حیدر علی کیخلاف ریپ کا الزام ثابت نہ ہوسکا، مانچسٹر پولیس نے کیس خارج کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کھیلا جائے گا ٹی 20 ورلڈ کپ
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ