پاکستان میں روٹی کے بحران کی نوبت نہیں آنے دیں گے، رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ہر صورت میں عوام کو روٹی کی فراہمی کے بحران سے بچائے گی اور اس ضمن میں تمام اقدامات بروقت کیے جائیں گے۔
وزیر نے یہ بات قومی گندم پالیسی پر ہونے والے اہم اجلاس کی صدارت کے دوران کہی، جس میں 2025/26 کی گندم پالیسی اور آئندہ برسوں کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کو عالمی مارکیٹ کے مطابق مناسب قیمت دی جائے گی تاکہ ان کی معاشی حالت مستحکم رہے اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس، گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ
رانا تنویر حسین نے کہا کہ صارفین کے لیے قیمتوں میں استحکام حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ غریب طبقے کو سبسڈی کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ گندم کے قومی ذخائر جدید سائلوز میں محفوظ ہوں گے تاکہ موسمی خطرات اور معیار میں کمی سے بچاؤ ممکن ہو۔
انہوں نے سپلائی چین میں بہتری اور گندم کے معیار کی یقین دہانی پر بھی زور دیا اور کہا کہ نئی گندم پالیسی نہ صرف غذائی تحفظ بلکہ کسانوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے گی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، گندم چوری کیس کے ملزمان کو ضمانت نہ مل سکی
رانا تنویر حسین نے کہا کہ فورٹیفائیڈ آٹے اور ملٹی گرین فلور کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا تاکہ بچوں اور ماؤں میں غذائی کمی کو دور کیا جا سکے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ قومی گندم پالیسی مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی اور گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید تحقیق اور بہتر بیج متعارف کرائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے اور پاکستان میں روٹی کے بحران کی نوبت ہرگز نہیں آنے دی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان رانا تنویر حسین روٹی گندم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان رانا تنویر حسین روٹی رانا تنویر حسین نے کہا گندم پالیسی کہا کہ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔