کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر تاجر قتل، رواں سال میں اب تک 62 شہری جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
شہر قائد میں ڈاکو راج قائم ہے اور ایک اور شہری کو مزاحمت پر قتل کردیا گیا، جس کے بعد رواں سال میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 62 تک پہنچ گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ روز کراچی کے علاقے ماڑی پور روڈ پر ڈکیتی مزاحمت پر ٹائروں کا کاروبار کرنے والے تاجر کو ملزمان نے ڈکیتی مزاحمت پر قتل کیا۔
متوفی کی شناخت 33 سالہ ولی کے نام سے کی گئی، جو 7 بچوں کا باپ تھا۔ مقتول کی تدفین کے بعد اب بیٹے کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت پر پیش آیا۔
پولیس نے مقتول کے بیٹے کی مدعیت میں ڈکیتی اور قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کو منتقل کر دیا۔
مقتول 33 سالہ ولی خان کے بیٹے اور مدعی مقدمہ زوہیب نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ فیز 6 جاوید بحریہ ماڑی پور کا رہائشی اور والد کے ہمراہ ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے، بدھ کی شب نور اسپورٹس اکیڈمی جاوید بحریہ میں موجود تھا کہ کزن انعام نے فون کر کے بتایا کہوالد کو گولیاں لگیں اور انھیں سول اسپتال لے گئے ہیں جس پر وہ رشتے داروں کے ہمراہ سول اسپتال پہنچا جہاں معلوم ہوا کہ فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔
بیٹے نے پولیس کو بیان دیا کہ مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ بدھ کی شب میرے والد جاوید بحریہ سے براستہ میں ماڑی پور روڈ ہوٹل پر آئے اور وہاں سے اپنے گھر آرہے تھے کہ رات 9 بجے کے قریب جب وہ اپنی کار میں بلوچ فٹبال گراؤنڈ مسرور کالونی پہنچے تو ایک موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے اُن پر فائرنگ کی اور انہیں تین گولیاں لگیں۔
فائرنگ کی آواز سن کر ارشد اور دیگر اہل محلہ باہر نکل آئے اور اس دوران دونوں ملزمان مین روڈ ماڑی پور کی طرف فرار ہوگئے جنھیں ارشد اور دیگر لوگ شناخت کرسکتے ہیں۔
بیٹے کے مطابق والد کا موبائل فون ، پرس اور شلوار کی جیب میں رکھے پیسے غائب تھے۔ پولیس نے مقتول ولی کے بیٹے زوہیب کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 279 سال 2025 بجرم دفعات 397 اور 302 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے حوالے کر دیا۔
واضح رہے کہ واقعے کے خلاف مقتول کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے ہاکس بے روڈ دھرنا دے کر ٹریفک بلاک کر دی تھی اس موقع پر مشتعل افراد کی جانب سے ٹائروں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔
احتجاجی مظاہرین کی جانب سے علاقہ پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایس ایچ او ماڑی پور کو فوری طور پر معطل اور واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس سے قبل منی ایکسچینج کا کام کرنے والے جمیل نامی شخص کو بھی ماڑی پور کے علاقے میں گھر کے قریب لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا اور ڈاکو اس سے رقم کا تھیلا چھین کر فرار ہوگئے تھے۔ مظاہرین نے کہا تھا کہ پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث علاقہ میں لوٹ مار کی وارداتیں عام ہوگئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈکیتی مزاحمت پر ماڑی پور
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک