ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے اغوا کے کیس میں اہم پشرفت
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے اغوا اور قتل کی دھمکیوں کے مقدمے میں گرفتار ملزم حسن زاہد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو مبینہ دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری کی عدالت میں ملزم کو پیش کیا گیا۔
عدالت نے ملزم حسن زاہد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بیجھنے کا حکم دے دیا۔ پولیس کیجانب سے ملزم کے 5 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مبینہ اغواء کے مقدمے میں بھی ملزم جوڈیشل ہوچکا ہے۔ ملزم کیخلاف تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج ہے۔
حسن زاہد نے نوجوان ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو ان کے گھر کے باہر سے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ سامعہ نے ملزم پر الزامات عائد کیے ہیں کہ اس نے انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔
ٹک ٹاکر نے بعد ازاں ویڈیو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزم حسن زاہد ان کا منگیتر تھا تاہم ان کا رشتہ ختم ہوچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب حسن زاہد
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔