ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے اغوا کے کیس میں اہم پشرفت
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے اغوا اور قتل کی دھمکیوں کے مقدمے میں گرفتار ملزم حسن زاہد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو مبینہ دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری کی عدالت میں ملزم کو پیش کیا گیا۔
عدالت نے ملزم حسن زاہد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بیجھنے کا حکم دے دیا۔ پولیس کیجانب سے ملزم کے 5 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مبینہ اغواء کے مقدمے میں بھی ملزم جوڈیشل ہوچکا ہے۔ ملزم کیخلاف تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج ہے۔
حسن زاہد نے نوجوان ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو ان کے گھر کے باہر سے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ سامعہ نے ملزم پر الزامات عائد کیے ہیں کہ اس نے انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔
ٹک ٹاکر نے بعد ازاں ویڈیو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزم حسن زاہد ان کا منگیتر تھا تاہم ان کا رشتہ ختم ہوچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب حسن زاہد
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔