2006 کے ممبئی ٹرین بم دھماکا کیس میں بری ہونے والے عبد الواحد شیخ نے ’حراستی تشدد‘ اور غلط قید کی بنیاد پر 9 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے یہ درخواست قومی اور مہاراشٹر انسانی حقوق کمیشن کو جمع کرائی ہے اور اپنے لیے بحالی (rehabilitation) میں مدد کی بھی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی موٹل میں بھارتی شہری کا سر قلم، قاتل گرفتار

شیخ کو مہاراشٹر اے ٹی ایس نے 2006 میں گرفتار کیا تھا اور وہ تقریباً 9 سال جیل میں قید رہے۔ 2015 میں خصوصی عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جیل کی سزا نے ان کی تعلیم، کیریئر اور ذاتی زندگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

حراستی تشدد کے باعث انہیں صحت کے سنگین مسائل لاحق ہوئے اور رہائی کے بعد بھی ’دہشتگرد‘ کا داغ لگنے کی وجہ سے نوکری پانا مشکل ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کرپٹو کرنسی ریگولیشن کے لیے قانون سازی سے انکاری کیوں؟

شیخ کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت اسکول ٹیچر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور خاندان کے واحد کفیل ہیں۔

قید کے دوران ان کے اہلِ خانہ کو سماجی، جذباتی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے تقریباً 30 لاکھ روپے کا قرض بھی لیا۔

انہوں نے کہا کہ 10 برس تک انہوں نے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا کیونکہ ان کے دیگر ساتھی ملزمان کو سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم رواں سال جولائی میں بمبئی ہائی کورٹ نے تمام 12 ملزمان کو بری قرار دیا جس کے بعد انہوں نے یہ اپیل کی۔

یاد رہے کہ 11 جولائی 2006 کو ممبئی کی ویسٹرن ریلوے کی لوکل ٹرینوں میں 7 بم دھماکوں کے نتیجے میں 180 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

یہ واقعہ بھارت کی تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

دہشتگردی عبد الواحد شیخ ممبئی ممبئی ٹرین دھماکا مہاراشٹر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دہشتگردی عبد الواحد شیخ ممبئی ٹرین دھماکا مہاراشٹر انہوں نے

پڑھیں:

ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ

تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر قانونی سگریٹ برآمد، 11 ٹرکوں سے 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • کراچی: لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکا، آگ بھرک اتھی
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • پاکستان نے چین کے لئے نیا سفیر نامزد کردیا
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا