مکی آرتھر کی بابر اعظم کی غیر شمولیت پر حیرت
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ایشیا کپ کے لیے اسکواڈ میں سابق کپتان بابر اعظم کی غیر موجودگی پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن کی ناکامی کے بعد کرکٹ حلقوں اور شائقین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ٹیم انتظامیہ نے آخر کیوں بابر اعظم کو شامل نہیں کیا۔
مکی آرتھر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ اس ٹیم میں بابر اعظم کیوں شامل نہیں، دنیا بھر کی ٹیمیں اپنی بہترین بیٹنگ لائن کے ساتھ بڑے ایونٹس کھیلتی ہیں مگر پاکستان نے اپنے سب سے بہترین بیٹر کو باہر رکھا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ میں نہ صرف بابر اعظم بلکہ وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان اور فاسٹ باؤلر نسیم شاہ بھی شامل نہیں ہیں، ٹیم کے ان بڑے کھلاڑیوں کی غیر موجودگی پر شائقین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے تنقید سامنے آ رہی ہے۔
پاکستانی ٹیم اگرچہ گروپ اے میں مسلسل دو میچ جیت کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے، بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامی نے سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
خیال رہےکہ بابر اعظم کو ایشیا کپ کے لیے اسکواڈ سے ڈراپ کرنے کے پیچھے کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، کچھ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ٹیم کی نئی مینجمنٹ اور سلیکشن پالیسی کے تحت کیا گیا، جس میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے پر زور دیا گیا۔ دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بابر اعظم انجری اور فٹنس مسائل سے دوچار تھے، اسی وجہ سے انہیں ایشیا کپ کے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔
کرکٹ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ بابر اعظم مکمل طور پر فٹ ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ سمیت مختلف ٹریننگ سیشنز میں وہ مسلسل بیٹنگ کی مشق کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شائقین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب بابر اعظم فٹ ہیں تو پھر ان کو بڑے ایونٹ سے باہر رکھنے کا جواز کیا ہے۔
سابق کرکٹرز نے بھی اس فیصلے کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ بابر اعظم کی غیر موجودگی میں پاکستان کی بیٹنگ لائن کا ڈھانچہ کمزور نظر آیا ہے اور ٹیم نے اہم مواقع پر اسکور بنانے میں مشکلات کا سامنا کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بابر اعظم کی ایشیا کپ کے بیٹنگ لائن شامل نہیں کے لیے کی غیر
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔