Express News:
2026-07-24@08:59:51 GMT

توجہ کا اندھا پن

اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT

مورخہ 4 ستمبر 2025 کو جاوید چوہدری کا ایک کالم بعنوان International Blindness پر لکھا تھا جس میں سوسائٹی میں بڑھتی ہوئی ’’بے توجہی‘‘ پر بات کی گئی تھی، مغرب کے لوگ اپنی سوسائٹی میں بڑھتی ہوئی بے توجہی سے تشویش میں مبتلا ہیں۔

 اسی لیے نفسیات دانوں نے ایک نئی تھیوری ’’توجہ کا اندھاپن‘‘ کو ٹیسٹ کرنے کے لیے کیا تھا، اور ایک آٹھ سالہ بچے کو بطور چائلڈ ایکٹر روم کے سینٹرل پارک میں بٹھا دیا اور چاروں طرف اس کی گمشدگی کے پوسٹر لگا دیے، لیکن سارا دن گزر گیا، لوگ آتے رہے، جاتے رہے، لیکن کسی نے بھی اس بچے کی طرف توجہ نہ دی جو گمشدہ تھا، ایک خاتون نے تو پوسٹر بھی پڑھا اور بچے کے پاس جا کر اس کا موازنہ بھی کیا، لیکن بجائے دیے ہوئے فون نمبر پہ مسنگ بچے کے بارے میں اطلاع دیتی، کندھے اچکائے وہاں سے چلی گئی۔

مجھے یہ کالم پڑھ کر خیال آیا کہ ہماری سوسائٹی بھی توجہ کے اندھے پن کا شکار ہے، ہم بہت بری طرح توجہ کے فقدان یا اندھے پن کا شکار ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ تلاش گمشدہ پر چھپنے والے اشتہاروں پر کسی نے توجہ دی ہو؟ ہم ہر لحاظ سے توجہ کے اندھے پن کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد ایک ایسا شہر ہے جس کے بارے میں ماہرین نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہاں زلزلے کے فالٹ لائن ہے، یہاں زلزلے آ سکتے ہیں۔

پھر سب نے 2008 کا زلزلہ دیکھا ۔ گزشتہ سال جب میں اسلام آباد اپنے بیٹے کے پاس گئی، تو وہ شام کو مجھے اور بیوی بچوں کو لانگ ڈرائیو پر لے گیا، تب میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ بلند و بالا فلیٹ بنائے جا رہے ہیں، خاص کر چکری روڈ کے ہر جگہ فلیٹ ہی فلیٹ نظر آئے، ہاؤسنگ اسکیمیں نظر آئیں، درخت کاٹے گئے اور پہاڑوں کو توڑا گیا، اور بنگلوز بن گئے، فلیٹ بن گئے، اسے توجہ کا اندھا پن ہی کہیں گے کہ درختوں کے کاٹنے سے پتھر اپنی جگہ چھوڑیں گے اور اگر خدا نخواستہ کلاؤڈ برسٹ ہوا اور بے تحاشا بارش سے سیلاب آ گیا تو کیا ہوگا۔ جب میں نے اپنے بیٹے سے یہ بات کی کہ زلزلوں والی زمین پر بلند و بالا فلیٹ تعمیر کرنے کی اجازت محکمے نے کیوں دے دی؟ تو وہ بولا ’’امی! آپ جانتی تو ہیں کہ اس ملک میں سب کام ہو جاتے ہیں۔‘‘

اس نے ٹھیک ہی کہا تھا، جب کوئی امیر آدمی پیسہ خرچ کرکے سینیٹر بن سکتا ہے تو کیا نہیں ہو سکتا؟ اس کی بلا سے شہر ڈوب جائے، اس کی جیب خالی نہ ہو۔ مجھے اسلام آباد بالکل پسند نہیں ہے، ایک عجیب سی بے چینی طاری رہتی ہے۔ جب کبھی کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا ہوا تو یہ شہر سمٹا ہوا لگتا تھا، کانفرنس میں جاتے تھے تو وہیں سے واپس آ جاتے تھے، لیکن جب بیٹے کے پاس جاتی تھی تو وہ گھمانے لے جاتا تھا، اس شہر کی ایک ایک تفریح گاہ میری دیکھی ہوئی ہے، جب وہ گزشتہ سال جون 24 میں لانگ ڈرائیو پر لے کر گیا تو بلند و بالا عمارتیں دیکھ کر میرا تو دل دہل گیا۔ سب سے زیادہ مجھے ان لوگوں کی عقل پہ ماتم کرنے کو جی چاہا جنھوں نے ان فلیٹوں اور بستیوں میں بکنگ کروا کے رہائش اختیار کرنے کا سوچا ہے۔ یہ بھی توجہ کا زوال یا اندھا پن ہے ۔ لاہور میں راوی کنارے بنائی گئی بستی کا جو حال ہوا ہے، اس کے بعد لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ بقول دلاور فگار:

لے کے رشوت پھنس گیا ہے

دے کے رشوت چھوٹ جا

اب آتے ہیں توجہ کے ایک اور فقدان کی طرف، یہ ہے بزرگ شہریوں اور معمر افراد کے تعلق سے بیگانگی۔ کسی بھی دفتر میں، کسی بینک میں یا کسی بھی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے میں کہیں بھی آپ چلے جائیں، بزرگ شہری اور معمر افراد دھکے کھا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے کوئی نشست نہیں، کوئی علیحدہ کاؤنٹر نہیں۔ ایک بار میں نے ایک بینک منیجر سے یہ کہا کہ آپ سینئر سٹیزن کے لیے علیحدہ کاؤنٹر کر دیں تو انھوں نے بڑی بدتمیزی سے جواب دیا کہ لوگ صرف بینکوں سے کیوں توقع رکھتے ہیں کہ وہ سینئر سٹیزن کا خیال رکھیں۔

پھر ایک اسی بینک کی دوسری برانچ سے جہاں میرا اکاؤنٹ ہے یہی سوال کیا تو منیجر آپریشن بہت شائستگی سے بولے کہ ’’میڈم! ہمارے پاس عملہ کم ہے، ورنہ پہلے یہاں بھی ایک علیحدہ کاؤنٹر ہوتا تھا‘‘ جسے میں نے بھی دیکھا تھا، لیکن اب صرف لکڑی کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا ضرور ایک طرف رکھا نظر آتا ہے جس پر لکھا ہے، معذور اور بزرگ شہریوں کے لیے۔زندگی کے جس شعبے میں بھی آپ نظر دوڑائیں توجہ کا اندھا پن ہر جگہ نظر آتا ہے۔ ہجرت کے بعد معاشرہ جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا ہے، اس کے اثرات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں اور جب سے موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے تباہی مچائی ہے تب سے توجہ کا فقدان بہت بڑھ گیا ہے۔ ایک اپارٹمنٹ میں جو اٹھائیس فلیٹوں پر مشتمل ہے، اس میں ایک خاتون تنہا رہتی ہیں۔

ملازمہ کام کرکے چلی جاتی ہے، بچے ملک سے باہر ہیں، ایک فلور پر چار فلیٹ ہیں، لیکن کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ ان خاتون سے یہی پوچھ لیں کہ انھیں بازار سے کچھ منگوانا تو نہیں ہے، یا ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔ انھیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے۔ بچے بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک چلے گئے، ماں باپ اکیلے رہ گئے، اگر صاحب حیثیت ہیں تو ملازمہ رکھ لی یا چوکیدار کو پیسے دے کر جو کچھ منگوانا ہو منگوا لیا، ورنہ تنہا پڑے رہے۔ سڑکوں اور شاپنگ مالز کے گیٹ پر آپ نے موٹر سائیکلیں اور کاریں کھڑی دیکھی ہوں گی، مجال ہے جو کسی کو خیال آ جائے کہ اس نے غلط پارکنگ کی ہے۔

چند ماہ کے دوران ملک میں برساتی اور سیلابی صورت حال کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، اب رخ سندھ کی طرف ہے لیکن خواہ اسلام آباد ہو یا کراچی، نالوں پر بلڈنگیں بنائی جا رہی ہیں، کراچی تو ویسے بھی سطح سمندر سے نیچے ہے۔ سمندر کے کنارے ہوٹل بن گئے ہیں، نالے بند ہو گئے ہیں، اگر کراچی میں کلاؤڈ برسٹ ہوا تو یہ خدائی قہر ہوگا۔

مجھے تو لگتا ہے کہ بادلوں کا پھٹنا، سیلاب کا آنا، بستیاں اجڑنا سب اسی وجہ سے ہے کہ ہم فطرت کے خلاف جا رہے ہیں، جب آبی گزرگاہیں بند ہو جائیں گی، دریاؤں کی زمین پر بستیاں بنا دی جائیں گی، نالے بند کر دیے جائیں گے تو یہ پانی کہاں جائے گا؟ باران رحمت صرف ایک نقطے کے فرق سے ’’ زحمت‘‘ بن جاتا ہے۔ ہماری قوم ہر معاملے میں توجہ کے اندھے پن کا شکار ہو رہی ہے۔ ہم ایک بے حس قوم ہیں اور وہ قوم ہیں جو جس شاخ پہ بیٹھتی ہے اسی پر کلہاڑا چلاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اندھے پن کا شکار توجہ کا اندھا اسلام آباد اندھا پن توجہ کے رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز