وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈوویلپمنٹ چوہدری سالک حسین کی روم میں اطالوی ہم منصب، مارینا ایلوِرا کالدیروں سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2025ء) وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈوویلپمنٹ چوہدری سالک حسین کی روم میں اطالوی ہم منصب، مارینا ایلوِرا کالدیروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کے دوران مئی 7، 2025 کو اسلام آباد میں دستخط شدہ مزدوروں کی نقل و حرکت اور ہجرت کے معاہدے (MoU) کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں وزیروں نے 15 ستمبر کو روم میں ہونے والے اس کے پہلے اجلاس پر اطمینان کا اظہار کیا۔
دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان انسانی وسائل کی ترقی کے لیے باہمی مفاد پر مبنی تعاون جاری رکھا جائے گا۔گفتگو میں باقاعدہ لیبر چینلز کو بڑھانے، بیرون ملک جانے سے پہلے تربیت اور سرٹیفکیٹ کو تسلیم کرنے، پروفیشنل ٹریننگ اور اٹلی میں انٹرن شپس کے مواقع پر بات ہوئی۔(جاری ہے)
اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے آسان اور مؤثر ویزہ نظام پر بھی بات چیت ہوئی۔
وفاقی وزیر سالک حسین نے اپنی اطالوی ہم منصب کو اٹلی کے وزیر داخلہ سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا اور محترمہ کالدیروں کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان ایک ایسا مرکز ہے جہاں مخصوص کاموں کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب ہے جو اٹلی کی لیبر مارکیٹ کے لیے موزوں ہے۔اطالوی وزیر محنت نے اٹلی میں تقریباً 3 لاکھ پاکستانیوں کی اٹلی کی معیشت اور ترقی میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا پل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دورے کی دعوت کو خوشی سے قبول کیا اور کہا کہ وہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ آئیں گی۔
ملاقات اس عزم کے ساتھ ختم ہوئی کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ روایتی طور پر بہترین تعلقات اور تعاون سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔