حج 2025: پرائیویٹ اسکیم عازمین حج کے لیے بڑی خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوش خبری سامنے آئی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری اسکیم کے بعد اب پرائیویٹ حج اسکیم کے لیے درخواستوں کی وصولی کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا ہے اور عازمین آج سے اپنی درخواستیں جمع کرواسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اس سال پرائیویٹ اسکیم کے تحت 37 ہزار 903 عازمین حج پر جا سکیں گے۔ وزارتِ مذہبی امور کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس پرائیویٹ اسکیم کے تحت محروم رہ جانے والے 22 ہزار 97 افراد کی رجسٹریشن پہلے ہی ہوچکی ہے۔ اس لیے پرائیویٹ حج آپریٹرز کو لازمی طور پر بیانِ حلفی دینا ہوگا کہ وہ پہلے ان عازمین کو شامل کریں گے جو پچھلے سال رہ گئے تھے۔
اس سال پرائیویٹ اسکیم کے لیے کل کوٹہ 60 ہزار مقرر کیا گیا ہے، جس میں سے 22 ہزار 96 عازمین گزشتہ برس کے ہیں جبکہ 37 ہزار 903 نئے افراد حج کے لیے درخواستیں جمع کروا سکیں گے۔ یوں پہلے سے رجسٹرڈ امیدواروں کو ترجیح دینے کے بعد نئے درخواست گزاروں کو موقع دیا جائے گا۔
یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پچھلے سال محروم رہ جانے والے افراد کو انصاف مل سکے اور ساتھ ہی نئے امیدوار بھی پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج کی سعادت حاصل کرسکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پرائیویٹ اسکیم کے تحت کے لیے
پڑھیں:
شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں اپنی رکنیت بحالی کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ زندگی کا ایک عجوبہ کام جو مجھے بہت پہلے کرنا چاہئے تھا، اب کر رہا ہوں، مجھے بار کی رکنیت 50 سال پہلے حاصل کرنی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سردار رازق کے چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار کی رکنیت کی بحالی کی درخواست کر رکھی ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار کی رکنیت بحال ہو گئی تو بار کی سیاست نہیں کروں گا، صرف اور صرف سردار رازق کے چیمبر میں بیٹھ کر پریکٹس کروں گا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :