اسلام آباد(این این آئی)جنوبی ایشیائی ملک کمبوڈیا میں پاکستانی شہریوں پر بہیمانہ مظالم اور انسانی اعضاء کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلا ت کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق نے ایک سال میں 18 ہزار پاکستانیوں کے کمبوڈیا جانے پر وزارت داخلہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایف آئی اے کمبوڈیا جانیوالے افراد کی سہولت کاری کر رہا ہے۔اراکین نے کہاکہ تھائی لینڈ اور ویتنام کی ہمسایہ ریاست میں پاکستانیوں کو یرغمال بنانے،کرنٹ لگانے،بھتہ لینے کی شکایات عام ہیں، جسمانی اعضاء تک نکال لئے جاتے ہیں۔

عمران خان قائداعظم سے بھی زیادہ مقبول ہیں، محمد علی جناح کے پاس بھی کے پی کے نہیں تھا : اسد طور 

کمیٹی چیئرمین آغارفیع اللہ نے بڑے سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ ڈی جی بیورو آف امیگریشن کا عہدہ خالی کیوں ہے؟،تمام اختیارات کیا قائمقام ڈی جی کے پاس ہیں؟ وزارت خارجہ نے اگر 700 افراد ریسکیو کئے تو پھر ایک سال میں مزید 18 ہزار پاکستانی کمبوڈیا کیسے چلے گئے؟۔کمیٹی چیئرمین آغا رفیع اللہ نے کہاکہ جو کمبوڈیا میں لوگ فراڈ کے ذریعے لیکرجاتے ہیں وہاں پر جا کر انکے مختلف اعضاء بیچے جاتے ہیں، شکایات کافی آئی تھیں جس ایشو کو ہم نے اٹھایا اور وہاں پر لوگوں کو ریکور کروایا ایک سال کے اندر اندر 18 ہزار لوگ جا رہے ہیں، کمبوڈیا میں جہاں پر نہ کوئی سیاحت کی جگہ ہے نہ کوئی بزنس ہے نہ کچھ اور ہے۔

’کیا امریکی تھنک ٹینک ماہر کوگل مین بھی بک گئے، دنیا مان چکی مگر پاکستان میں کھ لوگ کبھی نہیں مانیں گے: وسیم عباسی 

کمیٹی رکن مہرین بھٹو نے کہاکہ ملک کے پڑھے لکھے پروفیشنلز نے اوورسیز جانا ہی ترجیح بنا رکھا ہے،جبکہ وزارت اوورسیز کے حکام نے بتایاہے کہ2024-25میں پاکستانیوں نے بیرون ملک سے 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر وطن بھیجیں۔ 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا