کمبوڈیا میں پاکستانیوں پر مظالم، انسانی اعضا ء کی فروخت کا انکشاف، وزارت داخلہ کا ایک سال میں ہزاروں شہریوں کے جانے پر اظہار برہمی
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام آباد(این این آئی)جنوبی ایشیائی ملک کمبوڈیا میں پاکستانی شہریوں پر بہیمانہ مظالم اور انسانی اعضاء کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلا ت کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق نے ایک سال میں 18 ہزار پاکستانیوں کے کمبوڈیا جانے پر وزارت داخلہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایف آئی اے کمبوڈیا جانیوالے افراد کی سہولت کاری کر رہا ہے۔اراکین نے کہاکہ تھائی لینڈ اور ویتنام کی ہمسایہ ریاست میں پاکستانیوں کو یرغمال بنانے،کرنٹ لگانے،بھتہ لینے کی شکایات عام ہیں، جسمانی اعضاء تک نکال لئے جاتے ہیں۔
عمران خان قائداعظم سے بھی زیادہ مقبول ہیں، محمد علی جناح کے پاس بھی کے پی کے نہیں تھا : اسد طور
کمیٹی چیئرمین آغارفیع اللہ نے بڑے سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ ڈی جی بیورو آف امیگریشن کا عہدہ خالی کیوں ہے؟،تمام اختیارات کیا قائمقام ڈی جی کے پاس ہیں؟ وزارت خارجہ نے اگر 700 افراد ریسکیو کئے تو پھر ایک سال میں مزید 18 ہزار پاکستانی کمبوڈیا کیسے چلے گئے؟۔کمیٹی چیئرمین آغا رفیع اللہ نے کہاکہ جو کمبوڈیا میں لوگ فراڈ کے ذریعے لیکرجاتے ہیں وہاں پر جا کر انکے مختلف اعضاء بیچے جاتے ہیں، شکایات کافی آئی تھیں جس ایشو کو ہم نے اٹھایا اور وہاں پر لوگوں کو ریکور کروایا ایک سال کے اندر اندر 18 ہزار لوگ جا رہے ہیں، کمبوڈیا میں جہاں پر نہ کوئی سیاحت کی جگہ ہے نہ کوئی بزنس ہے نہ کچھ اور ہے۔
’کیا امریکی تھنک ٹینک ماہر کوگل مین بھی بک گئے، دنیا مان چکی مگر پاکستان میں کھ لوگ کبھی نہیں مانیں گے: وسیم عباسی
کمیٹی رکن مہرین بھٹو نے کہاکہ ملک کے پڑھے لکھے پروفیشنلز نے اوورسیز جانا ہی ترجیح بنا رکھا ہے،جبکہ وزارت اوورسیز کے حکام نے بتایاہے کہ2024-25میں پاکستانیوں نے بیرون ملک سے 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر وطن بھیجیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک