پاکستانیوں کے اعضاکمبوڈیا میں فروخت ہونے کاانکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250920-08-14
اسلام آباد (صباح نیوز) جنوبی ایشائی ملک کمبوڈیا میں پاکستانی شہریوں پر بہیمانہ مظالم اور انسانی اعضا کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق نے ایک سال میں18 ہزار پاکستانیوں کے کمبوڈیا جانے پر وزرات داخلہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا ایف آئی اے کمبوڈیا جانے والے افراد کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ اراکین نے کہا تھائی لینڈ اور ویتنام کی ہمسایہ ریاست میں پاکستانیوں کو یرغمال بنانے، کرنٹ لگانے،بھتا لینے کی شکایات عام ہے‘ جسمانی اعضا تک نکال لیے جانتے ہیں۔ کمیٹی چیئرمین آغارفیع اللہ نے کہا کہ ڈی جی بیورو آف امیگریشن کا عہدہ خالی کیوں ہے؟ تمام اختیارات کیا قائم مقام ڈی جی کے پاس ہیں؟ وزارت خارجہ نے اگر700 افراد ریسکیو کیے تو پھر ایک سال میں مزید18 ہزار پاکستانی کمبوڈیا کیسے چلے گئے؟۔ انہوں نے کہا کہ جو کمبوڈیا میں لوگ فراڈ کے ذریعے لے کے جاتے ہیں وہاں پر جا کے ان کے مختلف اعضا بیچے جاتے ہیں، کافی شکایات آئی تھیں جس ایشو کو ہم نے اٹھایا اور وہاں پر لوگوں کو ریکور کروایا ایک سال کے اندر اندر18 ہزار لوگ جا رہے ہیں، کمبوڈیا میں جہاں پر نہ کوئی سیاحت کی جگہ ہے نہ کوئی بزنس ہے نہ کچھ اور ہے۔ کمیٹی رکن مہرین بھٹو نے کہا ملک کے پڑھے لکھے پروفیشنلز نے اوورسیز جانا ہی ترجیح بنا رکھا ہے جبکہ وزارت اوورسیز کے حکام نے بتایا2024-25 میں پاکستانیوں نے بیرون ملک سے38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر وطن بھیجیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمبوڈیا میں نے کہا
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔