کمبوڈیا میں پاکستانی شہریوں پر بہیمانہ مظالم اور انسانی اعضا کی فروخت, تہلکہ خیز کا انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
جنوبی ایشائی ملک کمبوڈیا میں پاکستانی شہریوں پر بہیمانہ مظالم اور انسانی اعضا کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق نے ایک سال میں 18 ہزار پاکستانیوں کے کمبوڈیا جانے پر وزرات داخلہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا ایف آئی اے کمبوڈیا جانے والے افراد کی سہولت کاری کر رہا ہے۔اراکین نے کہا تھائی لینڈ اور ویتنام کی ہمسایہ ریاست میں پاکستانیوں کو یرغمال بنانے،کرنٹ لگانے،بھتہ لینے کی شکایات عام ہے جسمانی اعضا تک نکال لئے جانتے ہیں۔کمیٹی چیئرمین آغارفیع اللہ نے بڑے سوالات اٹھائے دیئے۔ کہا ڈی جی بیورو آف امیگریشن کا عہدہ خالی کیوں ہے؟ تمام اختیارات کیا قائم مقام ڈی جی کے پاس ہیں؟ وزارت خارجہ نے اگر 700 افراد ریسکیو کئے تو پھر ایک سال میں مزید 18 ہزار پاکستانی کمبوڈیا کیسے چلے گئے؟۔کمیٹی چیئرمین آغا رفیع اللہ نے کہا کہ جو کمبوڈیا میں لوگ فراڈ کے ذریعے لے کے جاتے ہیں وہاں پر جا کے ان کے مختلف اعضا بیچے جاتے ہیں، کمپلنٹس کافی آئی تھیں جس ایشو کو ہم نے اٹھایا اور وہاں پر لوگوں کو ریکور کروایا ایک سال کے اندر اندر 18 ہزار لوگ جا رہے ہیں، کمبوڈیا میں جہاں پر نہ کوئی سیاحت کی جگہ ہے نہ کوئی بزنس ہے نہ کچھ اور ہے ۔کمیٹی رکن مہرین بھٹو نے کہا ملک کے پڑھے لکھے پروفیشنلز نے اوورسیز جانا ہی ترجیح بنا رکھا ہے جبکہ وزارت اوورسیز کے حکام نے بتایا 2024،25 میں پاکستانیوں نے بیرون ملک سے 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر وطن بھیجیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کمبوڈیا میں نے کہا
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔