چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کیخلاف اپیل پر تحریری حکم جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر تحریری حکم جاری کردیا۔
جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس نے تحریری حکم جاری کیا جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل کو نوٹس نہیں کیا گیا، پی ٹی اے وکیل نے کہا ممبر ایڈمنسٹریشن کی تعیناتی قانون کے مطابق ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا سنگل بینچ نے فیصلہ کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، عدالت نے درخواست گزار اسامہ خلجی کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔
پاکستان نے کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ میں سری لنکا کو شکست دیدی
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی، جسٹس بابر ستار نے چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ دیا تھا۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی اے
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔