بالی ووڈ کی فلم گینگسٹر کے گانے ’یا علی‘ سے مشہور ہونے والے گلوکار زوبین گارگ کی موت بغیر لائف جیکٹ پہنے اسکوبا ڈائیونگ کی وجہ سے ہوئی۔

یہ انکشاف بھارتی ریاست آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے حالیہ گفتگو میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زوبین سنگاپور میں بغیر لائف جیکٹ کے اسکوبا ڈائیونگ کر رہے تھے۔

ان کے مطابق گلوکار نے پہلے لائف جیکٹ پہن رکھی تھی جبکہ دوسری بار سمندر میں جاتے وقت لائف جیکٹ موجود نہیں تھی جو ان کی موت کا سبب بنا۔ 

موت سے قبل گلوکار کی ویڈیو میں یہ واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ دوسری مرتبہ ڈٓائیو کے دوران ان کے جسم پر لائف جیکٹ نہیں تھی۔ 

https://www.

instagram.com/reel/DOys-Wkk5Co/?utm_source=ig_web_copy_link

ہمانتا بسوا سرما نے بتایا کہ گلوکار زوبین گارگ کا پوسٹ مارٹم آج کیا جائے گا جس کے بعد ان کی موت کی اصل وجہ کا تعین ہوسکے گا۔ آسام میں زوبین گارگ کی موت پر 3 روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ 

واضح رہے کہ گلوکار زوبین گارگ گزشتہ روز سنگاپور میں اسکوبا ڈائیونگ کے دوران حادثے کا شکار ہوکر ہلاک ہو گئے تھے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زوبین گارگ لائف جیکٹ کی موت

پڑھیں:

اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔

گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔

سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔

شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔

دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔

اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔

زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔

ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔

اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی