جمہوریت کیلیے بھٹو خاندان نے لہو کا نذرانہ دیا، اعجاز چودھری
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جڑانوالہ (آ ن لائن) پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر محمد اعجاز چودھری نے کہا کہ جمہوریت کیلیے بھٹو خاندان نے لہو کا نذرانہ دیا، میرمرتضیٰ بھٹو کی عظمت کو سلام!بھٹو خاندان کا نام ملکی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔شہید میرمرتضی بھٹو کی 71ویں سالگرہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعجاز چودھری نے کہا کہ بھٹو نے بدترین فوجی آمریتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،بھٹو خاندان نے اپنی جانیں بچانے یا ذاتی مفادکیلئے نہ سودے بازی کی اور نہ ہی ملک سے بھاگے‘ ن لیگ اور نیازی کیا جانے جمہوریت اور قانون و آئین کی بالا دستی کیلئے وقت کے فرعونوں سے کیسے ٹکر لی جاتی ہے۔ بھٹو خاندان کو ختم نبوت کے قانون کی بالادستی اور،پہلی اسلامی ایٹمی قوت کی بنیاد رکھنے کی سزا بھٹو خاندان کو سامراجی قوتوں نے فوجی امروں کے ذریعے دلائی اور جمہوریت کی حکمرانی کیلئے بد ترین مصائب و مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا پھر بھی پیپلز پارٹی گھبرائی نہیں نہ معافی مانگی اور نہ ہی ڈیل کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھٹو خاندان
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔