گورنر خیبرپختونخوا کا شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے یوم شہادت پر خراجِ عقیدت پیش
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
مکہ مکرمہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2025ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے یوم شہادت پرخراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو بہادری، جرات اور استقامت کا پیکر تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی آمریت کے خلاف مزاحمت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔
(جاری ہے)
ہفتہ کو اپنےپیغام میں انہوں نے کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کو ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا تاکہ شہید بینظیر بھٹو کی حکومت کو کمزور اور بھٹو خاندان کی سیاسی جدوجہد کو ختم کیا جا سکے لیکن تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ بھٹو خاندان کی قربانیاں اور استقامت عوام کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی قربانی تاریخِ پاکستان کا وہ ناقابلِ فراموش باب ہے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کو جمہوریت کے استحکام کی جدوجہد کی یاد دلاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو خاندان نے ہمیشہ جمہوریت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور کبھی پیچھے قدم نہیں ہٹایا ،پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے لیے میر مرتضیٰ بھٹو کی جدوجہد ایک روشن مثال ہے اور ان کی عوام دوستی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شہید میر مرتضی کہ شہید کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔