خیبر پختونخوا میں روسی فاختہ کے شکار کی مشروط اجازت
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
پشاور:
چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں روسی فاختہ کے شکار کے سیزن کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا ہے، فیصلہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مرتب کردہ مؤثر حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے۔
اس موقع پر محکمہ جنگلات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا کے ترجمان لطیف الرحمٰن نے بتایا کہ یہ اجازت خیبر پختونخوا وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی (تحفظ، بقا، نگہداشت و انتظام) ایکٹ 2015 کے مطابق دی گئی ہے۔
محکمہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق روسی فاختہ کا شکار 31 اکتوبر 2025 تک صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز کیا جا سکے گا۔ اس شکار میں صرف وہ شکاری حصہ لے سکیں گے جو لائسنس یافتہ اسمال گیم شوٹنگ لائسنس رکھتے ہوں۔
وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ فیلڈ اسٹاف پورے سیزن کے دوران پرندوں کی آبادی کی سخت نگرانی کرے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ غیر متعینہ ایام میں یا بغیر لائسنس شکار کرنے والے شکاریوں کو کسی رعایت کے بغیر سزا دی جائے گی۔
جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق شکار کی فیس فی پرندہ 25 روپے مقرر کی گئی ہے، جب کہ بیگ لمٹ لائسنس میں واضح درج ہوگا۔ مقررہ حد سے زیادہ پرندے رکھنے کی صورت میں فی پرندہ 5ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ شکار صرف طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب کے بعد سختی سے ممنوع ہوگا۔
چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد قدیم شکار کے رواج کو برقرار رکھتے ہوئے جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ صوبے کے ماحولیاتی توازن پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
یہ حکمتِ عملی ذمہ دارانہ شکار کے فروغ اور خیبرپختونخوا میں روسی فاختہ کی آبادی کے دیرپا تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مرتب کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا وائلڈ لائف روسی فاختہ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔