اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ امن کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں پاکستان کے امن و انصاف کے اصولوں پر غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان دنیا میں پائیدار اور منصفانہ امن کے قیام کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے، عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو دنیا سراہتی ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی غیر قانونی زیرِقبضہ جموں و کشمیر اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری سنگین انسانی المیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

برطانوی وزیراعظم آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے

انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار امن اس وقت تک ایک خواب ہی رہے گا جب تک ان خطوں کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا۔

وزیرِاعظم نے زور دیا کہ پاکستان امن، انصاف اور انسانیت کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھی اس مقصد کے لیے ہاتھ ملائے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ آج دنیا بھر میں تنازعات اور ناانصافیاں بنی نوع انسان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، یہ دن ہمیں سنجیدہ انداز میں اس امر کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ امن کے فروغ کے لیے ہر فرد اور ہر قوم کو اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔

امریکی ایچ ون-بی ویزا کی نئی فیس سے متعلق وائٹ ہاؤس نے وضاحت جاری کردی

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس امر پر فخر ہے کہ اس نے عالمی امن کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا، اقوام متحدہ کے امن مشنز میں دہائیوں پر محیط شمولیت اور متاثرہ آبادیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنا پاکستان کی ان کاوشوں کا حصہ ہے، جن سے دنیا کے تنازعے کے شکار خطوں میں امن و استحکام کو فروغ ملا۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کہا کہ امن کے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار