اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+نمائندہ خصوصی) وزیرِاعظم  محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادیں ختم نہ کر دی جائیں،آج دنیا بھر میں تنازعات اور ناانصافیاں بنی نوع انسان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ امن کے فروغ کے لیے ہر فرد اور ہر قوم کو اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان کو اس امر پر فخر ہے کہ اس نے عالمی امن کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ بات وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ امن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں سنجیدہ انداز میں اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ امن کے فروغ کے لیے ہر فرد اور ہر قوم کو اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادیں، جن میں غربت، انسانی حقوق سے انکار اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت شامل ہیں، ختم نہ کر دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ امن کو مضبوط بین الاقوامی اداروں کے ذریعے پروان چڑھانا اور محفوظ رکھنا ہوگا، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن ذرائع سے تنازعات کے حل کے عزم کو ایک بار پھر پختہ کرے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جب ہم امن کے حقیقی مفہوم پر غور کرتے ہیں تو ہم فلسطین کے مقبوضہ علاقے اور بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری سنگین انسانی المیوں کو نظرانداز نہیں کر سکتے، جب تک ان خطوں کے عوام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا، مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو اس امر پر فخر ہے کہ اس نے عالمی امن کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں دہائیوں پر محیط شمولیت اور متاثرہ آبادیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنا پاکستان کی ان کاوشوں کا حصہ ہے جن سے دنیا کے تنازعہ زدہ خطوں میں امن و استحکام کو فروغ ملا۔ اس عالمی یومِ امن پر آئیے ہم سب تعمیری اور اجتماعی عمل کا عہد کریں، ان ہتھیاروں کو خاموش کریں جو بے گناہوں کی جان لیتے ہیں، سفارت کاری پر دوبارہ اعتماد کریں اور تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کریں۔ پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ ہمارے ساتھ مل کر امن، انصاف اور انسانیت کی بحالی کے لیے جدوجہد کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ دنیا بھر میں امن قائم ہو۔ دریں اثناء قائم مقام صدر پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ امن انسانیت کی بقا، ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن صرف مکالمے، برداشت، انصاف اور تعاون کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے، کیونکہ طاقت اور جبر کبھی حقیقی سکون اور ہم آہنگی کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ انہوں نے عالمی یومِ امن 2025ء کے موضوع ‘‘امن کے قیام کے لیے فوری اقدام اٹھائیں’’ کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے رہنماؤں کو چاہیے کہ تنازعات اور تصادم کے بجائے مذاکرات، باہمی احترام اور سفارتکاری کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن محض جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ عدل، مساوات، انسانی حقوق کے احترام اور معاشرتی ہم آہنگی پر مبنی ہوتا ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے پیغام کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمان نے حالیہ قراردادوں کے ذریعے نہ صرف فلسطین پر اسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم کی بھرپور مذمت کی ہے بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35-اے کا خاتمہ کشمیری عوام سے ان کی منفرد شناخت چھیننے کی مذموم کوشش ہے، جسے پاکستان کبھی قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین، قطر، شام، لبنان، ایران اور دیگر ممالک پر حالیہ جارحیت کو بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام خصوصاً بچوں اور خواتین کا قتل عام، امدادی سامان کی بندش اور شہری علاقوں پر بمباری، بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہے، جسے عالمی برادری کو فوری طور پر روکنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے آج امریکہ روانہ ہونگے۔ وزیراعظم جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے اور غزہ کے حوالے سے خصوصی اجلاس میں بھی شریک ہونگے۔ وزیراعظم دورہ امریکہ میں مسئلہ کشمیر، فلسطین، قطر پر حملے سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق صدرِ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری  نے  عالمی یومِ امن پر پیغام میں کہا کہ عالمی یومِ امن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن محض جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور پائیدار ترقی کے فروغ کا دوسرا نام ہے۔جب دنیا میں قانون کی حکمرانی اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے درمیان ایک معرکہ جاری ہے، پاکستان نہ صرف تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہے بلکہ عالمی اور علاقائی استحکام میں اپنا بھرپور کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی متحارب قوتوں کے ساتھ بھی پاکستان کے متوازن تعلقات ہیں۔ دنیا اب پاکستان کو مسائل کے حل میں ایک شریکِ کار کے طور پر جانتی ہے۔ پاکستان آج علاقائی اور عالمی امن میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتی نظر آتی ہے۔انہوں نے پاکستان کی قیادت نے ہمیشہ عالمی امن اور انصاف کے لیے بھرپور آواز بلند کی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور عالمی امن کے لیے جرات مندانہ مؤقف اپنایا، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے دنیا بھر میں امن، جمہوریت، خواتین کے حقوق اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ان کا وڑن آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ امن اور انصاف ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا عالمی امن عالمی یوم نے کہا کہ ہے کہ امن انہوں نے کے مطابق نے عالمی امن کے کے لیے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری