پاکستان سے روایتی جنگ کے بعد بیانیے کی جنگ بھی جیت گیا،بھارتی اینکر پرسن کا بڑا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
بھارتی میڈیا کی معروف اینکر پرسن پالکی شرما نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت مئی کی جنگ کے بعد بیانیے کی جنگ بھی بری طرح ہار گیا تھا۔
ایک تقریب میں انٹرویو دیتے ہوئے پالکی شرما نے کہا کہ بھارت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پاس ٹیلنٹ بھی موجود ہے اور پیسہ بھی، لیکن وژن کی شدید کمی ہمیں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں جب بھی حکمتِ عملی پر بات کی جاتی ہے تو سوچ صرف بارڈرز اور ڈپلومیسی تک محدود رہتی ہے، لیکن میڈیا کو کبھی بطور “اسٹریٹجک ریسورس” استعمال نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق دنیا بھر میں میڈیا کو طاقت اور اثر و رسوخ کے ایک بڑے ہتھیار کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن بھارت ابھی تک اس حقیقت کو نظرانداز کرتا رہا ہے۔
پالکی شرما نے اعتراف کیا کہ جنگ کے بعد صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ ایک بڑی ناکامی ہے جس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔