Express News:
2026-07-24@03:16:16 GMT

اہم عہدے لے کر بھی حصہ دار نہیں ہم

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری نے کراچی میں پیپلز لائرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں مگر اس کا حصہ نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پاس اتنے ووٹ نہیں تھے کہ بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنا سکتے۔ پیپلز پارٹی کا ہر رہنما یہی کہتا آ رہا ہے اور میئر کراچی جیسے جیالے (ن) لیگ کو یہ یاد دلاتے بھی رہتے ہیں کہ ان کی حکومت پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہی قائم ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما (ن) لیگ کی حکومت میں پیپلز پارٹی کی شمولیت نہ ہونے کے بعد سے نہ جانے کیوں خاموش ہیں اور اپنی کوئی رائے نہیں دیتے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ (ن) لیگ کی موجودہ کابینہ میں پیپلز پارٹی کی کوئی نمایندگی اس لیے نہیں ہے کہ حکومت سازی کے وقت کابینہ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے کیا تھا جو دوراندیشانہ فیصلہ تھا۔

پی ڈی ایم حکومت جس نے 16 ماہ بعد مدت پوری کرکے ختم ہونا تھا جس میں بلاول بھٹو وزیرخارجہ تھے اور شہباز شریف کی کابینہ میں پیپلز پارٹی نے بھرپور وزارتیں، مشیر و معاونین خصوصی کے عہدے لیے تھے اور جیسے ہی پی ڈی ایم کی حکومت کی مدت پوری اور فروری میں الیکشن کا اعلان ہوا تھا پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پی پی کی انتخابی مہم کا آغاز مسلم لیگ (ن) کی طرف پی پی کی توپوں سے کیا تھا اور خاص کر انھوں نے پنجاب میں انتخابی مہم (ن) لیگ پر کڑی تنقید سے شروع کی تھی اور وہ یہ بھول گئے تھے کہ (ن) لیگ 16 ماہ کی حکومت میں پی پی کی حلیف تھی اور حکومت کابینہ میں جو فیصلے کرتی، وہاں پی پی کے وزیر اس کی حمایت کرتے تھے مگر انتخابی مہم میں پنجاب و کے پی میں (ن) لیگ کے مقابلے میں پی پی نے اپنے امیدوارکھڑے کیے تھے اور بلاول بھٹو نے لاہور سے الیکشن لڑا تھا مگر (ن) لیگی امیدوار سے ہار گئے تھے۔

ضلع راولپنڈی میں گوجر خان سے پی پی کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف جیتے تھے، جو ان کا آبائی حلقہ تھا اور انھوں نے حکومت میں ہوتے ہوئے وہاں ترقیاتی کام بھی بہت کرائے تھے۔

پنجاب میں صرف جنوبی پنجاب کے سرائیکی بیلٹ میں پی پی کا ووٹ شروع سے رہا ہے اور پی پی جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی شروع سے ہی حامی ہے مگر 2018 میں پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ اپنا کر پی پی کا ووٹ توڑ لیا تھا اور پی پی کامیاب نہیں ہو سکی تھی مگر 2023 کے الیکشن میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کامیاب منصوبہ بندی کی وجہ سے پی پی کو جنوبی پنجاب سے وہ کامیابی ملی جو اسے 2008 کے الیکشن میں بھی نہیں ملی تھی۔

جنوبی پنجاب سے پی پی کو (ن) لیگ کے مقابلے میں زیادہ کامیابی ملی مگر پی پی نے پنجاب میں اپنا گورنر جنوبی پنجاب کے بجائے ضلع اٹک سے ایک ایسے شخص کو بنایا جو پی پی میں پہچانے جاتے تھے نہ ان کی پی پی میں کوئی کارکردگی تھی۔

ضلع رحیم یار خانہ کے احمد محمود پہلے پنجاب کے گورنر اور پی پی کے سینئر رہنما ہیں جنھیں نظرانداز کیا گیا اور ملتان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر منتخب کرا کر سینیٹ کا چیئرمین ضرور بنوایا گیا یہ عہدہ حکومت سازی کے وقت پی پی کے لیے تھا۔

معاہدے کے تحت صدر مملکت آصف زرداری نے ہی بننا تھا جب کہ پنجاب و کے پی کی گورنر شپ، بلوچستان کی حکومت، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ پیپلز پارٹی کو معاہدے کے مطابق ملا۔ اس ملک کے دو اہم عہدے صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ پیپلز پارٹی کے پاس ہیں اور پی پی پنجاب حکومت میں بھی شمولیت چاہتی ہے مگر پی پی سندھ میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی مشیر تک نہیں ہے مگر پی پی کو پنجاب میں وزارتیں چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کہنے کی حد تک وفاقی حکومت کا حصہ نہیں مگر حکومت میں (ن) لیگ سے زیادہ اہم عہدے پیپلز پارٹی نے لے رکھے ہیں۔ دو صوبوں میں پی پی کی حکومت ہے جب کہ وفاقی حکومت صدر مملکت کے بغیر نامکمل ہے اور پیپلز پارٹی کے دو گورنر پنجاب و کے پی میں وفاقی حکومت کے نمایندے ہیں پھر بھی پی پی کے رہنما حکومت میں شامل نہ ہونے کے اکثر دعوے کرتے رہتے ہیں۔

صدر مملکت کی غیر موجودگی میں چیئرمین سینیٹ صدر مملکت اور ان کے نہ ہونے پر اسپیکر قومی اسمبلی صدر مملکت قائم مقام بن سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سے زیادہ سیاسی طاقت رکھتی ہے جو حکومت کی حمایت ختم کر دے تو وزیر اعظم فارغ مگر صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ برقرار رہیں گے اور وفاقی کابینہ بھی ختم ہو جائے گی جب کہ (ن) لیگ بلوچستان میں پی پی کے وزیر اعلیٰ کو بھی نہیں ہٹا سکتی۔

پی پی اپنی اسی سیاسی طاقت کے باعث وزیر اعظم کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہے جو پی پی کی ہر غلط بات بھی ماننے پر مجبور ہیں۔ (ن) لیگ پیپلز پارٹی سے کوئی بات نہیں منوا سکتی اور پیپلز پارٹی (ن) لیگ کی واضح اکثریت کے باوجود پاور شیئرنگ چاہتی ہے۔ اتنی سیاسی طاقت کے بعد پی پی رہنماؤں کے منہ سے یہ بات نہیں نکلنی چاہیے کہ ہم حکومت کو صرف سپورٹ کر رہے ہیں مگر حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔ پی پی رہنماؤں کا یہ موقف غیر حقیقی ہے مگر دل سے وہ حکومت میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں پیپلز پارٹی پیپلز پارٹی کے چیئرمین سینیٹ وفاقی حکومت بلاول بھٹو کابینہ میں حکومت میں صدر مملکت اور پی پی میں پی پی کی حکومت پی پی کی پی پی کے نہ ہونے ہے مگر پی میں

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر