18ویں ترمیم رول بیک کی کسی شق پر سمجھوتا نہیں ہوگا، پیپلز پارٹی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
مجوزہ ترامیم کے خلاف مؤقف تیار کیا جائے،پیپلز پارٹی اپنے اراکین سے آئینی ترامیم میں این ایف سی اور صوبائی خود مختاری سے متعلق رائے لے گی، اور این ایف سی کے متعلق ترمیم کی مخالفت کرے گی
پی پی کو ان ترامیم کی چند شقوں پر اعتراض ہے،این ایف سی ایوارڈ اور تعلیم اور پاپولیشن پلاننگ پر سخت مؤقف اپنانے کا فیصلہ ، پیپلز پارٹی آئینی ماہرین نے 27 ویں ترامیم پر غور شروع کر دیا،میڈیا رپورٹس
پاکستان پیپلز پارٹی نے ستائیسویں ترمیم میں 18ویں ترمیم کے رول بیک کے کسی شق پر بھی سمجھوتا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے آئینی ماہرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ مجوزہ ترامیم کے خلاف مؤقف تیار کیا جائے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے آئینی ماہرین نے 27 ویں آئینی ترامیم پر غور شروع کر دیا ہے، پی پی کو ان ترامیم کی چند شقوں پر اعتراض ہے۔پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ اور تعلیم اور پاپولیشن پلاننگ پر سخت مؤقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے اراکین سے آئینی ترامیم میں این ایف سی اور صوبائی خود مختاری سے متعلق رائے لے گی، اور این ایف سی کے متعلق ترمیم کی مخالفت کرے گی، صوبائی سبجیکٹ واپس لینے کی ترمیم کی مخالفت بھی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی ایف سی کا فیصلہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔