خطے نے ایک نئی کروٹ لی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس طرح خطے میں پاکستان کا کردار ایک مضبوط عسکری طاقت کی حیثیت سے مستحکم ہوا ہے جو اپنے اس تازہ تعارف کے بعد بین الاقوامی کھلاڑی کی حیثیت سے اپنا کردار مستحکم کر سکے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مئی کی مختصر پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے حریف کو جس انداز میں شکست سے دوچار کیا ہے، دنیا نہ صرف اسے تسلیم کر رہی ہے بلکہ اس کے علاقائی اور عالمی کردار کا انتظار بھی کر رہی ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے کے بعد عالمی منظرنامے پر اس انداز میں نمایاں ہوا ہے۔
پاکستان کے نئے ممکنہ کردار سے جو امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، کیا وہ قرینِ حقیقت ہیں؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی ملک اس وقت تک کوئی عالمی کردار ادا نہیں کر سکتا جب تک اس کے داخلی حالات مستحکم نہ ہوں اور حکومت کو حزبِ اختلاف کی طرف سے کوئی خطرہ نہ ہو۔
اس حقیقت میں تو کوئی کلام نہیں ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف وسیع عوامی حمایت رکھنے کے باوجود حکومت کے لیے چیلنج نہیں بن سکی۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ یہ جماعت اور اس کے بانی عوامی حمایت رکھتے ہیں لیکن بعض وجوہ سے وہ بے اثر رہے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور ریاست کی مخالفت کے درمیان کوئی حدِ فاصل قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ملک نے جب بھی اقتصادی استحکام کے لیے کوئی سرگرمی کی، اس جماعت نے اسے ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ پھر نو مئی کا واقعہ تو ایسا ہے جس کے بارے میں خود بھارتی تجزیہ کار یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ بھارت پاکستان کو اتنا نقصان پہنچانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا، جتنا نقصان پاکستان تحریکِ انصاف نے پہنچا دیا۔
اس جماعت کی تیسری ناکامی یہ ہے کہ وہ غزہ، ایران اور قطر پر اسرائیلی حملے کے مواقع پر اسرائیل کی مذمت کرنے میں قوم کی آواز میں اپنی آواز شامل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کا سبب کیا اس جماعت کے نظریات ہیں، بیرونِ ملک اس کے نظریاتی اتحادی ہیں یا کچھ اور؟ پاکستانی عوام اس انداز میں سوچنے لگے ہیں۔ یہ صورتِ حال پی ٹی آئی کے لیے خوش گوار نہیں ہے۔
مئی کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر پی ٹی آئی کے لیڈروں یعنی عمر ایوب وغیرہ نے ایسا طرزِ عمل اختیار کیا تھا جس کے بارے میں ان کے مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ یہ ملک اور قوم کا مورال ڈاؤن کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔ اس مرحلے پر جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا ہے، یہ جماعت اس پر تنقید کرتی ہے تو اسے اسی پس منظر میں دیکھا جائے گا جس کے نتائج اس جماعت کے لیے خوش گوار نہیں ہوں گے۔
اس تجزیے کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت اس معاہدے کی مخالفت کی پوزیشن میں نہیں ہو گی۔ ویسے بھی اس کے حامی حلقے اس معاہدے کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو انداز اختیار کر رہے ہیں، وہ پاکستانی مزاج سے زیادہ بھارتی مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ اس طرح اس جماعت کے بے لگام کی بورڈ وارئیرز نے اپنی جماعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔ اس صورتِ حال میں حکومت کو پی ٹی آئی کی طرف سے کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے۔
اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو ممکنہ طور پر جو اقتصادی فوائد مل سکتے ہیں، ان کے بعد تو حکومت زیادہ آسانی محسوس کرے گی۔خبریں ہیں کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جلد پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس موقع پر وہ یہاں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا آغاز کریں گے۔
اس رقم میں اضافے کے امکانات بھی ہیں۔ اس اقتصادی پیش رفت کے بعد حکومت اگر عوام کو اقتصادی دبا ؤسے نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انھیں بجلی اور دیگر ضروریاتِ زندگی سمیت کچھ دیگر شعبوں میں کوئی بڑا ریلیف دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اب داخلی سیاسی استحکام کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کی کامیابی کے لیے یہ بڑی مضبوط بنیاد ہ ے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلامی دنیا میں اس معاہدے کو کوئی چیلنج درپیش ہو گا؟ بعض حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس معاہدے سے پاکستان کا پڑوسی ایران اور سعودی عرب کا پڑوسی یمن بے چین ہو سکتے ہیں۔ اس معاہدے کے خلاف یہ دلیل پیش کرتے ہوئے یہ حقیقت ضرور پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ایران و سعودی عرب کے تعلقات ان دنوں ماضی کی طرح معاندانہ نہیں بلکہ خوش گوار ہیں۔ اس کے علاوہ معاہدے سے قبل سعودی عرب نے ایران کو انتہائی اعلیٰ یعنی وزیرِ خارجہ کی سطح پر اعتماد میں لیا ہے۔
اس ضمن میں پاکستان کا معاملہ تو ویسے ہی بہت بہتر ہے۔ حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں پاکستان ایران کی پشت پر کھڑا رہا جس کے لیے ایران کے صدر نے پاکستان کا دورہ کر کے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اس پس منظر میں ایرانی تحفظات والا اعتراض وزن کھو دیتا ہے، خاص طور پر اس وضاحت کے بعد کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ معاہدہ صرف اس ملک کے خلاف ہے جو سعودی عرب پر حملہ آور ہو گا۔ کیا ایران ایسا ارادہ رکھتا ہے؟ اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاک بھارت جنگ کے موقع پر پی ٹی آئی کے کی بورڈ وارئیرز نے جس طرح اپنی جماعت کو نقصان پہنچایا۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ عالمی قوتیں، خاص طور پر چین، اس معاہدے کی حمایت کرتا ہے۔ اگر چین اس معاہدے کے ساتھ کھڑا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے مفادات محفوظ ہیں۔
کیا اس معاہدے سے یمن کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے؟ پاکستان کے ماضی کے طرزِ عمل اور معاہدے کے بارے میں دونوں ملکوں کی وضاحت کے بعد اس کا امکان بھی بہ ظاہر دکھائی نہیں دیتا۔
آپھر یہ معاہدہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ پاکستان کی اہمیت اور قوت کا اعتراف ہے۔ اس معاہدے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ حالیہ عالمی بحرانوں، خاص طور پر اسرائیلی عزائم کے ضمن میں بھارت کی مکاری اور منافقت بے نقاب ہو گئی ہے۔ اس لیے مسلم دنیا اب بھارت پر اعتماد کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ اس وجہ سے اگر مزید عرب ملک پاکستان کے ساتھ سعودی عرب جیسا معاہدہ کرتے ہیں ہیں تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
بعض لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سعودی عرب بھارت سے تعلقات ختم کر دے گا اور وہ اب بھارت میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا؟ یہ سوال عالمی سیاست اور اس کے مزاج سے بے خبری ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب بھارت سے فاصلہ اختیار کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اسے انگیج نہیں رکھے گا اور علانیہ دشمنوں کی صف میں دھکیل دے گا۔ سمجھ دار لوگ ایسا نہیں کرتے۔
حرفِ آخر یہ کہ اس معاہدے کے ذریعے تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی ہے جس میں پاکستان ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھر رہا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان میں داخلی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کا بھی ذریعہ بنے گی۔ پاکستان کی قسمت کا ستارہ عروج پر ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیلے ہیں جس کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں۔ پاکستان کی ان کامیابیوں سے جو حلقے خوش نہیں ہیں، وہ اپنے دھڑے کا تعین خود کر لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اس کا مطلب یہ اس معاہدے کے میں پاکستان کے بارے میں پاکستان کا پی ٹی آئی یہ ہے کہ ہے تو اس ہے کہ یہ نہیں ہو نہیں ہے کے بعد رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔