بھارت سے شکست پر شائقین کرکٹ بابر اعظم اور رضوان کو یاد کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل فور مرحلے میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد شائقین کرکٹ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں، کوچ اور مینجمنٹ پر بری طرح سے برس پڑے۔
فائنل فور مرحلے کے پہلے میچ میں بھارت سے ایک مرتبہ پھر قومی کرکٹ ٹیم کی ناکامی پر کرکٹ کے مداحوں کا پیمانہ چھلک پڑا۔
شائقین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ میچز کے مقابلے میں اس مرتبہ قدرے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن ناقص فیصلے پاکستان کو لے ڈوبے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم میں از سر نو تبدیلیوں کی ضرورت ہے، نئے کھلاڑیوں پر بھروسہ اچھا عمل ہے لیکن محمد رضوان اور بابر اعظم جیسے مستند سینیربیٹرز کی پاکستان ٹیم میں واپسی ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کے ہائی وولٹیج میچ میں پاکستان نے بھارت کو 172 رنز کا ہدف دیا، جس کو انڈین ٹیم نے باآسانی حاصل کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔