اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عالمی یومِ امن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ امن صرف تنازعات کی غیر موجودگی نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور اقوام کے درمیان باہمی احترام کا نام ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے رواں سال کے تھیم کی مکمل حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل اور بھارت کی بلا روک ٹوک جارحیت اور مظالم کو فوری طور پر بند کرائے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کے بقول "اسرائیلی افواج کے غزہ میں مظالم اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت انسانیت کے ضمیر پر ایک دائمی زخم ہیں، جنہیں دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔"انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وڑن کے مطابق امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے۔ "امن خوشحالی کی بنیاد ہے، جس کے بغیر جمہوریت کمزور، انصاف ماند اور انسانی روح زخمی ہو جاتی ہے۔"چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر پاکستان کے بانیوں اور پارٹی کی شہید قیادت کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے بزرگوں نے وقار، انصاف اور امن پر مبنی وطن کا خواب دیکھا اور اس کے لیے لازوال قربانیاں دیں۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو