تھر کی ثقافتی دھڑکن تھم گئی؛ معروف لوک گلوکار عارب فقیر انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کے عظیم لوک گلوکار عارب فقیر طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔
وہ تپ دق اور گردوں کی بیماریوں کے باعث مِٹھی کے سول اسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔
عارب فقیر کی موت نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے خطے کے ثقافتی منظر نامے کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔ دہائیوں پر محیط اپنے فنی سفر میں وہ تھر کی لوک موسیقی کے امین بن گئے تھے، جن کی آواز میں صحرا کی روایتی دھنوں نے نئی زندگی پائی۔ وہ ڈھاٹکی، مارواڑی، راجستھانی اور تھری زبانوں میں اپنے گیتوں کے ذریعے صحرائی زندگی کے رنگ بکھیرتے تھے۔
ان کے گیتوں میں صحرا کی عوامی دانش ’لوک دانش‘ کی جھلک صاف نظر آتی تھی، جو خوشی اور غم دونوں کے جذبات کو یکجا کرتی تھی۔ ان کے مقبول ترین گیت ’ہرمرچو‘ میں پہلی بارش کے بعد کی خوشی اور کاشتکاری کے آغاز کی امید جھلکتی تھی، جبکہ ’ڈورو الودعی‘ نامی گیت دلہن کی رخصتی کے وقت کے درد اور امید کو انتہائی مؤثر طریقے سے بیان کرتا تھا۔
ثقافتی حلقوں میں عارب فقیر کی آواز کا موازنہ عظیم لوک گلوکارہ مائی بھاگی سے کیا جاتا تھا۔ انہیں اپنے فن کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا، لیکن وہ ہمیشہ اپنی زمین اور اپنے لوگوں سے جڑے رہے۔ ان کی وفات کی خبر سنتے ہی شعرا، فنکاروں اور عوام کی بڑی تعداد مِٹھی سول اسپتال پہنچ گئی، جہاں سے ان کی میت ان کے آبائی گاؤں منتقل کی گئی۔
عارب فقیر کی وفات نے ایک بار پھر سینئر فنکاروں کے ساتھ ریاستی بے اعتنائی کے مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔ سول سوسائٹی کی بارہا اپیلوں کے باوجود صوبائی محکمہ ثقافت نے ان کے علاج معالجے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے۔ بہت سے لوگوں کے لیے ان کا انتقال محض ایک فنکار کی موت نہیں، بلکہ تھر کی ثقافتی روایت کے ایک اہم باب کا اختتام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔