زبانی جنگ کے بعد ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات، امریکی صدر نے تفصیل بھی بتادی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور معروف ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی کئی ماہ بعد پہلی بار عوامی سطح پر ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات قدامت پسند سیاسی کارکن اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے تنظیم کے بانی چارلی کرک کی یاد میں منعقدہ تقریب میں ہوئی۔
ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایلون مسک امریکی صدر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ خالی نشست پر بیٹھ گئے۔ دونوں نے ہاتھ ملایا اور پھر پرجوش انداز میں گفتگو کرنے لگے۔ یہ ان کی جون 2025 میں ہونے والی علیحدگی کے بعد پہلی عوامی ملاقات تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ سے تنازع کے بعد فون نمبر تبدیل کر لیا، امریکی اسپیکر کا دعویٰ
چارلی کرک کے یادگاری پروگرام میں ہونے والی اس غیر متوقع ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔
ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور کیپشن میں لکھا ’چارلی کے لیے‘۔
For Charlie pic.
— Elon Musk (@elonmusk) September 21, 2025
ایلون مسک سے ملاقات کے بعد جب صحافیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس ملاقات پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ایلون مسک آئے اور سلام کیا، یہ ایک خوشگوار بات تھی کہ وہ خود چل کر ملنے آئے اور کچھ گفتگو بھی کی۔ ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور یہ ملاقات خوش آئند رہی۔
????EXCLUSIVE: President Trump on Elon Musk today:
"Elon came over and said hello. I thought it was nice he came up and had a little conversation. We had a very good relationship. But it was nice that he came down." pic.twitter.com/JDOe6a5DTH
— DogeDesigner (@cb_doge) September 22, 2025
واضح رہے کہ ایلون مسک اور ٹرمپ کے تعلقات میں اس وقت تناؤ پیدا ہوا تھا جب ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر کھلےعام تنقید کی تھی، جس کے بعد وہ حکومتی عہدے سے الگ ہو گئے تھے۔
ایلون مسک نے خصوصی حکومتی مشیر کے طور پر 130 دن خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا تھا، جو 30 مئی کو مکمل ہونا تھیں، تاہم انہوں نے مدت مکمل ہونے سے 2 روز قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایلون مسک ’رام‘ ہو گئے، صدر کی عالمی کامیابیوں کا اعتراف
اس کے بعد اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی تھی۔ اپنی پوسٹس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ صدر کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق عام تصور سے کہیں زیادہ گہرا ہے اور کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بڑا دھماکہ کیا جائے، جس کے فوراً بعد انہوں نے ایپسٹین فائلز کے بارے میں پوسٹ کیں۔ جواب میں ٹرمپ نے ریاستی طاقت کے ذریعے مسک کے کاروبار کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
اس کے بعد جولائی 2025 میں ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی سطح پر کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے کئی سنگین تنازعات کامیابی سے حل کیے ہیں، جس کا کریڈٹ بنتا ہے، اُسے دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کے نئی سیاسی جماعت کے منصوبے مؤخر، وجہ کیا بنی؟
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے ایک ریلی میں ایلون مسک پر شدید تنقید کرتے ہوئے نہ صرف ان کے کاروبار کو ملنے والی اربوں ڈالر کی سبسڈی ختم کرنے کی بات کی، بلکہ طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ اگر وہ میرے ساتھ مخاصمت رکھتا ہے، تو اُسے جنوبی افریقہ واپس بھیج دینا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ سخت لب و لہجہ اور پھر اس کے فوراً بعد ایلون مسک کا ‘تعریفی’ پیغام ایک واضح اشارہ ہے کہ مسک نے سیاسی و کاروباری دباؤ کے پیش نظر مفاہمت کا راستہ چنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکس ایلون مسک ٹوئیٹر چارلی کرک چارلی کرک قتل ڈونلڈ ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس ایلون مسک ٹوئیٹر چارلی کرک چارلی کرک قتل ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر چارلی کرک انہوں نے ٹرمپ کی یہ بھی کے بعد
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔