وزیر اعظم شہباز اور 6 مسلم رہنما کل صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف آج نیویارک میں آئی ایم ایف کی صدرکرسٹالینا جیورجیوا اور چینی ہم منصب لی چیانگ سے ملاقات کریں گے۔دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔ان کی نیویارک میں مصروفیات کا شیڈول بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق شہباز شریف کی اہم ترین ملاقات کل بروز منگل ہو گی جس میں وہ سعودی عرب، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور مصر کے رہنماؤں کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ٹرمپ نے ان مسلم ممالک کے رہنماؤں کو ایک مشترکہ ملاقات کی دعوت دی ہے، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے مسائل پر بات چیت ہوگی۔اس کے علاوہ شہباز شریف آج فلسطین کے دو ریاستی حل پر سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔کویتی وزیراعظم شیخ صباح و صدرورلڈ بینک اجے بانگا سے ملاقات بھی کل کے شیڈول میں شامل ہے۔ یہ ملاقاتیں مالیاتی واقتصادی پالیسی، بین الاقوامی سرمایہ کاری اور عالمی ترقیاتی مسائل پرمرکوز ہوں گی۔دورے کے دوران شہباز شریف کلائمیٹ چینج و دیگر بائیلیٹرل اجلاسوں میں حصہ لے کرعالمی ماحولیات اوردو طرفہ تعلقات پرگفتگو کریں گے۔وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب 26 ستمبر کو ہوگا جس کے بعد وہ 27 ستمبر کو امریکا سے واپس وطن لوٹیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شہباز شریف سے ملاقات کریں گے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔