Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:00:44 GMT

کراچی میں قتل 3 خواجہ سرا مرد نکلے

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

کراچی میں قتل 3 خواجہ سرا مرد نکلے

کراچی میں سپر ہائی وے میمن گوٹھ ناگوری سوسائٹی کے قریب تین خواجہ سراؤں کے اندوہناک قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔ گزشتہ روز ملنے والی لاشوں کا رات گئے پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ تینوں مقتول خواجہ سرا بائیولوجیکل مرد تھے۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ مقتولین کے ساتھی محمد ظفر کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتولین کی شناخت مختلف ناموں سے کی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ان میں سے دو کی اصل شناخت محمد جینل اور الیکس ریاست کے نام سے ہوئی جبکہ تیسرے مقتول کی اصل شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ تاہم، انہیں عینی، اسما اور سمینہ کے ناموں سے جانا جاتا تھا۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ مقتولین 20 ستمبر کی شام ساڑھے سات بجے گھروں سے نکلے تھے اور رات دو بجے تک واپس نہ آئے۔ ان کے ساتھی نے بار بار کالز کیں لیکن جواب نہیں ملا۔ بعد ازاں واٹس ایپ گروپ کے ذریعے اطلاع ملی کہ ان کی لاشیں میمن گوٹھ سے ملی ہیں۔ پولیس کے مطابق تینوں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، دو کو سینے پر اور ایک کو سر پر گولی ماری گئی۔ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے دو خول اور کچھ ذاتی سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق جائے وقوعہ پر کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا تاہم قریبی سڑکوں پر لگے کیمروں کی مدد سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق مقتولین کو اسی مقام پر قتل کیا گیا جہاں سے ان کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ نے بھی نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قاتلوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور پولیس جلد از جلد رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی معصوم شہری کے قتل کو برداشت نہیں کرے گی۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا