سرکاری اراضی پر قبضے کی آڈٹ رپورٹ پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ٹو میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 ستمبر ۔2025 )پنجاب کی سرکاری اراضی پر قبضے کی آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں نئے انکشافات سامنے آگئے رپورٹ پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ٹو میں جمع کروا دی گئی رپورٹ کے مطابق 4 ہزار 907 ایکڑ 4 کنال سرکاری اراضی پر سالوں سے قبضہ مافیا کا راج برقرار ہے.
(جاری ہے)
محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ قابضین سے جگہ خالی کروانے میں ناکام ہے 3 ہزار 527 ایکڑ اراضی کے معاہدے 2009 سے 2012 میں ختم ہوئے تاہم اراضی واگزار نہ کروائی گئی، 3 ہزار 527 ایکڑ اراضی میں جھنگ، خانیوال اور جہانگیر آباد کے علاقے شامل ہیں. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لائیو اسٹاک محکمہ کو 1ارب 22 کروڑ 87 لاکھ 82 ہزار کرایہ بھی ادا نہ ہوا، محکمہ لائیو اسٹاک نے جگہ واگزار کروائی نہ ہی کرایہ وصول کیا محکمہ لائیو اسٹاک کی 1 ہزار 380 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضے کا بھی انکشاف ہوا ہے آڈٹ رپورٹ 2024-25 تیار ہونے تک محکمہ لائیو اسٹاک محکمہ آڈٹ کو جواب نہ دے سکا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے محکمہ لائیو اسٹاک
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔