WE News:
2026-06-03@00:37:24 GMT

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 700 پوائنٹس بڑھ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دوپہر 12 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 158,726.21 پوائنٹس پر تھا، جو 688.84 پوائنٹس یعنی 0.44 فیصد زیادہ ہے۔

کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں خریداری کا رجحان غالب رہا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس پہلی مرتبہ 1,57,000 پوائنٹس سے تجاوز کرگیا

بڑی کمپنیوں جیسے حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایم سی بی اور این بی پی کے شیئرز مثبت زون میں رہے۔

 https://Twitter.

com/investifypk/status/1970020256035770726

میڈیا رپورٹس کے مطابق، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا وفد 25 ستمبر 2025 کو پاکستان کا دورہ کرے گا، جہاں وہ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت دوسری ششماہی جائزہ رپورٹ پیش کرے گا۔

پاکستان سے توقع ہے کہ وہ مارچ اور جون 2025 کی تمام سات مقداری کارکردگی کی شرائط پوری کرے گا، جن میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور سوئیپ پوزیشنز شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس میں 600 پوائنٹس کا اضافہ

گزشتہ ہفتے بھی پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 3,597.68 پوائنٹس یعنی 2.3 فیصد بڑھ کر 158,037.37 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ سطح 154,439.69 پوائنٹس تھی۔

انڈیکس نے ہفتے کے دوران 159,337 پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی چھوئی، جو رواں سال کی نمایاں ریلیز میں سے ایک رہی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں یہ اضافہ ملکی اور بیرونی عوامل کے امتزاج سے ہوا۔

عالمی سطح پر، پیر کے روز ایشیائی مارکیٹس میں معمولی تیزی دیکھی گئی جبکہ امریکی ڈالر مستحکم رہا، سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی حالیہ شرحِ سود میں کمی کے بعد مستقبل کی مالیاتی پالیسی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، انڈیکس ایک مرتبہ پھر 157,000 پوائنٹس سے تجاوز کرگیا

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اور ورک ویزا کریک ڈاؤن نے مارکیٹ کے رجحان پر دباؤ ڈالا۔

بھارت کا اسٹاک انڈیکس گر گیا کیونکہ امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ نئے ایچ ون بی  ورک ویزا کے لیے کمپنیوں کو ایک لاکھ ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی، جو بھارتی اور چینی ہنرمند ورکرز پر انحصار کرنے والے ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے دھچکا ثابت ہوا۔

امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی، ایس اینڈ پی فیوچرز 0.1 فیصد نیچے رہے، جبکہ یورپی مارکیٹس کے بھی سست آغاز کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت مستحکم راہ پر، ریٹنگ میں بہتری کی امید: وزیر خزانہ کی موڈیز کو بریفنگ

ایم ایس سی آئی کا وسیع ایشیا پیسفک انڈیکس 0.1 فیصد بڑھا، جاپان کا نکی 1.3 فیصد اوپر گیا اور تائیوان کے شیئرز 1 فیصد سے زیادہ بڑھ کر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

ماہرین کے مطابق بھارت کا 283 ارب ڈالر مالیت کا آئی ٹی سیکٹر، جس کی نصف سے زیادہ آمدنی امریکا سے آتی ہے، امریکا اور بھارت کشیدہ تعلقات کے باعث قلیل مدتی مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس امریکی صدر امیگریشن پالیسی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ایچ ون بی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی بینچ مارک پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹیکنالوجی سیکٹر ڈونلڈ ٹرمپ کریک ڈاؤن کے ایس ای ورک ویزا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس امریکی صدر امیگریشن پالیسی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ایچ ون بی پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹیکنالوجی سیکٹر ڈونلڈ ٹرمپ کریک ڈاؤن کے ایس ای ورک ویزا اسٹاک ایکسچینج میں کے ایس ای

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا