چین کی بڑی پیشرفت،دشمن آبدوزوں کا سراغ لگانے والا جدید اے آئی سسٹم تیار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
— چین نے اپنی بحری صلاحیتوں میں ایک انقلابی اضافہ کرتے ہوئے ایسا جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سسٹم تیار کر لیا ہے جو دشمن کی آبدوزوں کا نہایت مؤثر طریقے سے سراغ لگا سکتا ہے۔ چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے بعد دشمن آبدوز کی زندہ بچنے کی شرح صرف 5 فیصد رہ جاتی ہے۔
یہ انکشاف ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا جس کے مطابق یہ اے آئی سسٹم روایتی نیول وارفیئر کے طریقے بدل کر رکھ دے گا۔
یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
نئے نظام میں مختلف انڈر واٹر سینسرز، ہائیڈرواکوسٹک بوائز اور ریڈارز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو انتہائی تیزی سے پراسیس کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ سمندری درجہ حرارت، نمکیات اور دیگر ماحولیاتی عوامل کو بھی نقشہ سازی کا حصہ بنایا جاتا ہے تاکہ آبدوز کے ممکنہ ٹھکانے کا اندازہ لگایا جا سکے۔
چینی سائنسدانوں کے مطابق، یہ AI سسٹم اتنا ہوشیار ہے کہ روایتی بچاؤ کے تمام حربے ناکام بنا سکتا ہے۔ سسٹم نہ صرف ڈیٹا کو پڑھتا ہے بلکہ اسے فوری اور مؤثر فیصلوں میں تبدیل بھی کرتا ہے — یعنی ایکشن ایبل ریکمنڈیشنز دیتا ہے جن پر فوری عمل ممکن ہے۔
عالمی سکیورٹی پر ممکنہ اثرات
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی یہ ٹیکنالوجی صرف دفاعی برتری نہیں بلکہ عالمی سطح پر نیوکلیئر ڈیٹرنس کے بنیادی توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ کیوں کہ آبدوزوں کی خفیہ نقل و حرکت، ایٹمی توازن کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے، جسے یہ سسٹم غیر مؤثر کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔