ڈسپوزیبل برتنوں کا استعمال کس خطرناک بیماری کا سبب بن سکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ روزانہ ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے برتنوں سے خارج ہونے والے ذرات دماغ تک پہنچ کا الزائمرز جیسی علامات کا سبب بن رہے۔
مطالعوں میں بڑھتے شواہد اس متعلق خبردار کر رہے ہیں کہ مائیکرو اور نینو پلاسٹک ذرات ماحول میں پھیلے ہوئے ہیں اور باقاعدگی سے غذا، پانی اور ہوا کے ذریعے انسان کے جسم میں داخل ہو رہے ہیں۔
انوائرنمنٹل ریسرچ کمیونیکیشن میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق پلاسٹک کے یہ باریک ذرات جسم کے تمام نظاموں میں پائے گئے، جن میں دماغ شامل ہے اور وہاں یہ ذرات اکٹھا ہو کر الزائمرز جیسی کیفیت کا سبب بن سکتے ہیں۔
گزشتہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مائیکرو پلاسٹک ذرات خون اور دماغ کے درمیان موجود ایک رکاوٹ (جس کا کام دماغ کو باہر سے آنے والے نقصان دہ مرکبات جیسے کہ وائرسز اور بیکٹیریا، سے بچانا ہے) سے گزر جاتے ہیں۔
تازہ ترین تحقیق میں رکاوٹ سے گزرنے والے پلاسٹک کے ذرات کے دماغی صحت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ پلاسٹک کے ان ذرات کا جمع ہونا دماغی صلاحیت میں تنزلی، حتیٰ کہ الزائمرز بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ بالخصوص ان لوگوں میں جو جینیاتی خطرات رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پلاسٹک کے کا سبب بن
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔