کھیلنے کی ہامی بھرلی تو ہاتھ ملانے سے انکار کیوں؟ سابق بھارتی کپتان کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 میں بھارتی ٹیم کی جانب سے کھیل کی روح کے منافی حرکت کو خود سابق بھارتی کرکٹرز کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔
بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کی افواہوں کے زیر گردش ایشیا کپ 2025 کا آغاز تو ہوگیا مگر امپائرنگ کے معیار اور بھارتی ٹیم کی گری ہوئی حرکت نے اسے متنازع بنادیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان گروپ اسٹیج اور سپر فور مرحلے میں دو میچز کھیلے جاچکے ہیں۔
تاہم بھارتی ٹیم نے کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے کی روایت توڑتے ہوئے دونوں میچز میں ٹاس کے وقت اور میچ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہیں ملائے۔
سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین کی جانب سے بھی ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اظہر الدین نے کہا کہ میرے خیال میں ہاتھ ملانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے، نہیں معلوم بھارتی ٹیم نے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ کیوں نہیں ملائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب میچ کھیلنے کی حامی بھرلی تو ہاتھ ملانے سے انکار مناسب نہیں ہے۔
واضح رہے کہ رواں ایونٹ میں پاکستان کے خلاف ریفری اور امپائر کی جانب سے کئی متنازع فیصلے بھی سامنے آچکے ہیں۔ جس میں سپر فور مرحلے میں بھارت کے خلاف میچ میں فخر زمان کا غلط کیچ آؤٹ دیا جانا بھی شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہاتھ ملانے بھارتی ٹیم کی جانب سے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔